انسان اور جنات

جن انسانوں اور فرشتوں کے علاوہ ایک الگ مخلوق ہیں۔ عقل مند ہونا، خیر و شر کے راستوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار رکھنا، ارادہ کرنا اور عبادت الٰہی کا مکلف و پابند ہونا جن و انس کے درمیان قدر مشترک ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:

((وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ))

(الذاریات:56)
میں  نےجنوں اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں

جنات اپنی پیدائش اور تخلیق کے لحاظ سے انسانوں سے یکسر مختلف ہیں۔ جنات انسانوں کی طرح ذی روح مخلوق ہیں جو عقلمند ، صاحب ارادہ اور مکلف ہوتے ہیں ، انسانی حواس سے پوشیدہ اور مادیت سے آزاد ہوتے ہیں، اپنی اصلی شکل و صورت میں دکھائی نہیں دیتے۔ مختلف شکلیں اختیار کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے ہیں۔ ان کے ہاں اولاد  بھی پیدا ہوتی ہے اور یہ روز آخرت اپنے اعمال کے جواب دہ بھی ہوں گے۔

جنات وہ مجسم اور پوشیدہ مخلوق ہے جو عقل و شعور رکھتی ہے اور ان پر ہوائی آگ کا غلبہ ہوتا ہے۔

واضح ہو کہ جنات کو ان کی اصلی شکل و صورت میں دیکھنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ اقدس ہے:۔
يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا ۗ إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

“اے اولاد آدم ! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا کہ اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے باہر کرا دیا، ایسی حالت میں کہ ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وہ ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے، وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے، ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔”

کیا جنات انسان سے کم تر ہیں؟

جن قدر و منزلت اور رز و شرف کے اعتبار سے انسانوں سے کم تر ہیں۔ بلاشبہ جن خواہ کتنے ہی صالح و نیک کیوں نہ ہوں وہ انسانوں سے قدر و منزلت میں کم تر ہوتے ہیں کیونکہ خالق کائنات اللہ عزوجل ، نے انسان کی عظمت و فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلً

یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔

قارئینِ کرام ! جنات کی ایسی فضیلت کسی بھی آسمانی کتاب میں ثابت ہے نہ کسی رسول اور نبی نے بیان کی ہے، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان جنوں سے قدر و منزلت کے لحاظ سے افضل و برتر ہیں اور اسی طرح انسانوں کے مقابلے میں جنات کا احساس کمتری کا شکار ہونا بھی مذکورہ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سورۃ جن میں اللہ تعالیٰ نے جنات کے احساس کمتری کو آشکار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب بعض نادان انسان جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے تو وہ انسانوں کی جانب سے اپنی بڑائی کے اظہار کو دیکھ کر پھولے نہ سماتے اور ان کی طغیانی اور سرکشی اور کفر و انکار میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ ارشاد باری  تعالیٰ ہے:۔

((وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا))

بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے۔

جنات کو جن کیوں کہتے ہیں؟

جن کو جن اس لئے کہتے ہیں کہ یہ انسانوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتے ہیں (عربی میں “جن” مادہ کے معنی میں پوشیدہ ہونا متحقق ہے) جنات انسانوں کو دیکھتے ہیں مگر انسان جنات کو ان کی اصلی صورت میں نہیں دیکھ سکتے البتہ دوسری شکلوں میں بعض اوقات ان کو دیکھا جا سکتا ہے مثلاً حیوانات وغیرہ کی شکل میں۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:۔

((إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ))

وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔

جنات کی تخلیق کب اور کیسے ہوئی؟

قرآن کریم کی نص کے مطابق جنات انسانوں سے قبل پیدا کئے گئے۔ ارشادِ رب العالمین ہے

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ

وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ 

(الحجر: 26-27)

“یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی جھنجھناتی مٹی سے پیدا فرمایا ہے اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لُو والی آگ سے پیدا کیا۔”

اور اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا ہے:۔

((وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ))
(الرحمٰن :15)

“اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا”