اچھی اور بری قضا و قدر پر ایمان لانا

اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایک مسلمان پر لازمی ہے کہ تقدیر الٰہی پر ایمان لائے اگرچہ وہ اچھی ہو یا بری اور اس کا اس بات پر پختہ یقین ہو کہ جو تکلیف اسے پہنچی ہے وہ اسے پہنچ کر ہی رہنی تھی اور جس تکلیف سے وہ محفوظ ہے اسے پہنچ نہیں سکتی اور اس کے علم میں یہ بات ہونی چاہئے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے عین مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ

لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ

(الحدید – 22،23)

نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ خاص تمھاری جانوں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ یہ کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے، تا کہ تم اپنے سے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر اترا جاؤ۔ اللہ تعالیٰ اترانے والے شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔