ترکِ حیوانات

مستند عاملین و کاملین نے کتب میں چلہ کشی کی خاطر جو تفصیلات ترکِ حیوانات کے ضمن میں لکھی ہیں وہ کچھ اسطرح ہیں:۔

ترکِ حیوانات کی دو قسمیں ہیں ۔
جمالی
جلالی

ترکِ حیوانات جمالی میں جن اشیاء کا ترک کرنا مراد ہے اُن میں ، گوشت ہر قسم کا، انڈا، مچھلی ، سرکہ، کچی پکی پیاز، لہسن ، جماع ، نظر بد سے پرہیز وغیرہ ہے۔

ترکِ حیوانات جلالی میں ، گوشت ہر قسم کا، انڈا، مچھلی، سرکہ، کچی پکی پیاز، لہسن ، شہد، مشک ، کشتہ ہر قسم کا ہر وہ اناج جس میں کھاد دیا گیا ہو۔ جماع اور نظر بد سے پرہیز کرنا، کھانا دھات کے برتن میں پکا ہوا نہ کھایا جائے، دھات کا چمچہ بھی اس میں نہ ڈالا جائے، ہانڈی مٹی کی، ڈوئی لکڑی کی استعمال کی جائے، اور استعمال کے برتن بھی مٹی کے ہوں۔ چھری چاقو ، استرا جس کا دستہ ہڈی یا ہاتھی دانت یا ہرن بارہ سنگھے کے سینگ کا لگا ہوا استعمال نہ کرے۔ چمڑے کے جوتے، چمڑے کی ٹوپی ، گھڑی میں چمڑے کا تسمہ استعمال نہ کرے۔ بال ناخن نہ کاٹے ، کسی کے بستر پر نہ سوئے نہ اپنے بستر پر کسی کو سونے سے۔ گھی، تل اور سرسوں کا تیل بھی استعمال نہ کرے۔ اگر دانت سے خون نکلنے کا احتمال ہو تو خلال اور دانت بھی صاف نہ کرے۔

یہ ترک جمالی اور جلالی کے شرائط ہیں۔  تاہم فی زمانہ ان شرائط پر کاربند رہنا ایک طرف مشکل ہے تو دوسری طرف ضرورتِ معاش کی وجہ سے جہاں ایک فرد کو اپنے کنبہ کی خاطر گھر سے باہر نکل کر کام تلاش کرنا پڑے وہاں ایسی شرائط کی پابندی یکسر ناممکن ہو جاتی ہے۔ اس ہی لئے موجودہ دور میں اجازت لیکر اعمال و عملیات کی زکات ادا کر دی جاتی ہے یا صاحبِ علم سے ہدیتہً اجازت کی درخواست کی جاتی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں کسی پرہیز جمالی و جلالی کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم دینی معاملات میں کوتاہی ہرگز ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ اور اجازتیں بھی اس ہی شرط پر قائم کی جاتی ہیں کہ بندہ پرہیز گاری کی جانب کامزن ہو کر اللہ سے امداد طلب کرتا رہے۔