تقدیرِ الٰہی پر صبراور روحانی علاج

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

 وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ

الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

آپ صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دیجئے، وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت آتی ہے کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

ہر مسلمان کے علم میں یہ بات ہونی چاہئے کہ دین کے نقصان سے بڑا کوئی نقصان نہیں، یہ دنیا و آخرت کی سب مصیبتوں سے بڑی مصیبت ہے، یہ ایسا خسارہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی نفع کی امید نہیں کی جا سکتی اور یہ ایسا نقصان ہے کہ اس کے ساتھ کسی طمع کی امید عبث ہے۔

جان لیں کہ انسان جسم اور روح دو چیزوں سے مرکب ہے اور ان دونوں چیزوں کے اثرات سے یہ متاثر ہوتا ہے۔ جس طرح جسم کو بیماریوں اور کمزوری سے محفوظ رکھنے کے لئے اچھی غذا اور مفید چیزوں کا استعمال اور نقصان دہ چیزوں سے اجتناب ضروری ہے تا کہ جسم کی نشو و نما اور صحت بر قرار رہے، اسی طرح روح کو بیماریوں اور کمزوری سے محفوظ رکھنے کے لئے اچھی غذا اور مفید چیزوں کے حصول اور مضر اشیاء سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جسم کا روح پر اثر ہوتا ہے اور روح کا جسم پر، اسی طرح جیسے جسم کسی مرض میں مبتلا ہو جائے تو اس کے علاج کی ضرورت پیش آتی ہے ، بعینہ روحانی طور پر متاثر اور بیمار شخص کے لئے بھی شریعت نے کچھ علاج معالجے مقرر کئے ہیں جن کی مدد سے روحانی بیماریوں کو ختم کر کے صحت یاب ہوا جا سکتا ہے۔

تا ہم جسم ایک حسی و ظاہری چیز ہے اس کے امراض و ادویات اور علاج معالجہ بھی  ظاہری چیزیں ہیں اور روح ایک غیر محسوس چیز ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے، نتیجتاً شیطان کے زیر اثر روحانی تکالیف میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ بعض دفعہ بچہ روتا ہے، ماں کا دودھ نہیں پیتا لیکن سورۃ فاتحہ یا معوذ تین کے دم سے بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے۔ شریعت نے کئی ایک بیماریوں اور موذی جانوروں کے شر سے بچنے کے لئے مختلف اذکار اور وظائف بتائے ہیں۔ یہ ایک مستقل باب ہے اور اس سلسلے میں ہم نے روحانی کورسز بھی متعارف کروائے ہیں جبکہ ہماری روحانی خدمات بھی اس سے منسلک ہیں۔

آج کل حسد ، نظر بد ، بے سکونی ، بے برکتی ، لڑائی ، حتٰی کہ پاگل پن اور صرع (مرگی) جیسی بیماریاں عام ہیں، ان سے بچاؤ کے بہت سارے اعمال و وظائف حدیث کی کتب میں وارد ہوئے ہیں، نبی کریم انھیں پڑھتے رہے اور صحابہ و اہل بیت اطہار  کو بھی تعلیم فرماتے رہے اور دم کر کے علاج بھی کرتے رہے۔ لیکن آج عام مسلمان ان سے بالکل غافل اور جاہل ہیں، چنانچہ سارا زور جسمانی امراض اور ان کے علاج پر لگا دیا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے کے عوام اور بعض پڑھے لکھے خواص بھی (معاذ اللہ) ان اعمال و وظائف کو عقیدے اور دین ہی کے خلاف سمجھنے لگے ہیں اور ان کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں جبکہ کتب حدیث ان سے بھری پڑی ہیں، زبانی پختہ عقیدے اور نظریے کا اظہار کرنے والے عمل سے بالکل عاری ہیں، صرف دعوٰی کئے پھرتے ہیں، روحانی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے تو ایسے افراد دلوں کے سخت ہونے، نماز سے نفرت ، رشتہ داروں سے بلاوجہ اختلاف و لڑائی، قرآن پڑھنے سے غفلت ، لہو و لعب سے محبت، بے حیائی اور آوارگی کی طرف میلان کو روحانی بیماریوں کے علاوہ کیا نام دیں گے؟ کیا ایک صحیح عقیدے کا حامل مسلمان مسجد ، قرآن اور نماز سے نفرت کر سکتا ہے؟ نہیں اور قطعاً نہیں ! تو پھر اگر اس کا دل بے زار ہے تو اس کا سبب کیا ہے؟ جسے یہ برا سمجھتا ہے؟ برا کہتا ہے اسی برائی میں منہمک کیوں ہے؟ اور جسے اچھا سمجھتا ہے اس کے شوق سے عاری کیوں ہے؟ دراصل یہی وہ امراض ہیں جو روح کو متاثر کر کے انسان کے اندر سے ایمان اور اللہ و رسول کی محبت و اطاعت کے جزبے پر زنگ و جراثیم کی شکل میں چڑھ جاتے ہیں۔ اب میڈیکل اور طب یونانی میں تو ان کا علاج نہیں ، ان کا علاج صرف وہ اذکار و وظائف ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے بتائے ہیں۔ یہی شیطانی اثرات کبھی بڑھ کر اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ شیطان غالب آکر آدمی کو پاگل بنا دیتا ہے، چنانچہ اس کے چنگل سے نجات کے لئے اسلام نے جو علاج معالجہ بتایا ہے اس کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔

شیاطین کا وجود، جادو، آسیب، پریشانیاں، دلوں کا متاثر ہونا، نیکی کا شوق  مٹ جانا اور برائی میں منہمک رہنا سب روح کے روگ ہیں، جن کے علاج کے جھانسے میں اہل شرک و بدعت اور خواہش پرست لوگ جھوٹے اور باطل طریقوں سے انسانیت کے عقائد و اعمال کو تباہ کر رہے ہیں، سو ضرورت ہے کہ اس مسئلہ پر مزید کاوشوں کو قارئین کرام کی سامنے لا کر اُن کو آگہی فراہم کی جائے تا کہ وہ ایسے تمام مسائل سے خود بھی اپنا علاج کر سکیں اور دوسروں کا علاج بھی کر سکیں۔