توہم پرستی کا وبال

بدشگونی کا تعلق توہم قلبی اور روحانی تاریکی کی علامات سے ہے۔ نفس الامر میں اس کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔ ہمارے ملک میں بعض لوگ توہم پرستی میں اس قدر آگے ہیں کہ کسی کام کو جاتے وقت چھینک بھی آجائے تو بیٹھ جاتے ہیں  کہ بس اب کام میں کامیابی نہ ہو گی، راستے میں کتا کان ہلا دے یا کوئی پوچھ بیٹھے آپ کہاں جا رہے ہیں تو بس اس کو ناکامی کی دلیل سمجھتے ہیں۔ اور فوراً واپس آجاتے ہیں۔ اس ہی طرح کالی بلی اگر راستہ کاٹ جائے تو اُس پورے دن کو ہی منحوس قرار دے دیا جاتا ہے جبکہ یہ بات خود بلی کے وہم و گمان میں نہ ہو گی۔
اس قسم کی ہزاروں توہمات کی باتیں رائج ہیں جن پر ہندوؤں کے بعد زیادہ تر مسلمان عورتیں کاربند ہیں۔ اور وہ ایک خلاف اسلام مظاہرہ کرنے کے علاوہ اپنے وقت کا نقصان اور کام کا ہرج گوارا کرتی ہیں ۔۔۔ افسوس صد افسوس ایسا نہیں کرنا چاہئے۔

ایک مرد مسلمان کی شان یہ ہونی چاہیے کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو مالک الملک جل شانہ کی حفظ وامان میں سمجھے۔ اور تمام کائنات کو اس کے قبضہ قدرت میں مقہور و مجبور جانے ساتھ ہی یقین رکھے۔ کہ کائنات کی بڑی سے بڑی ہستی اس کے حکم کے بغیر ذرہ بھر نہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایسے کامل ایمان والے کو نہ کسی علمِ قیاسیہ کی ضرورت، نہ ہی کوئی نچھتر دیکھنے کی مجبوری  ۔ یہ توہمات مشرکوں کو مبارک ہوں ۔ ایک مسلمان ان کی ذرہ برابر بھی پروا نہیں کرتا۔

اب جب بات علمِ نجوم پر نکلی تو کچھ وضاحت یہاں مطلوب ہے۔

علم نجوم دو طرح کا ہے۔ ایک وہ جو صرف اجرامِ علوی کی حرکات و سکنات قرب و بعد ، طلوع و غروب وغیرہ سے بحث کرتا ہے۔ اس کو غیبی امور کے انکشاف سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ گویا آسمانی جغرافیہ ہے۔ اصولِ اسلام اُس کے حرام ہونے کا کوئی فتوٰی نہیں دیتا۔ مگر دوسرا علم نجوم وہ ہے جس میں ستاروں کی رفتار سے واقعات عالم پر استقلال کیا جاتا ہے ۔ یہی علم نجوم ہے ، جو شرعاً حرام ہے۔

اس قسم کے علم نجوم کا استعمال کرنا نہ صرف  ناجائز ہے بلکہ کفر ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ:۔

ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ نے “جس نے کوئی بات علم نجوم کی سیکھی سوائے اس کے کہ اللہ نے بیان کی ہے، تو اس نے جادو کی ایک راہ سیکھی۔ نجومی کاہن ہے۔ اور کاہن جادوگر ہے۔ اور جادوگر کافر ہے”۔ مشکٰوۃ -باب الکہانت