جادو کی حقیقت

برصغیر کے خطہ میں جادو  کا وجود ہمیشہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ قدیم ادوار میں اکثر بیرونی لوگ ہندوستان کو جادو نگری سمجھتے رہے ہیں۔ بنگال کا کالا جادو تو پوری دنیا میں آج بھی اپنا ایک امتیازی مقام رکھتا ہے۔ یہ جادو پہلے زیادہ تر غیر مسلم طبقہ تک ہی محدود تھا لیکن اگر آج برصغیر کے موجودہ مسلمانوں کے عمومی کوائف اور احوال پر غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں جادو کی وبا اس خطہ ارضی کے مسلم طبقہ میں اس قدر تیزی سے پھیلی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ ہر روز مسلم گھرانوں میں کوئی نہ کوئی نیا واقعہ رونما ہوتا ہے اور سننے میں آتا ہے۔باہمی رشتہ داریاں باہم خلوص و خیر خواہی ، اُنسیت و محبت ، عفو درگزر ، اعتماد اور قربت کی بجائے نفرت، بغض و عناد ، عداوت و انتقام ، بد خواہی و بے اعتمادی ، شکوک و شبہات اور بُعد نے سب کچھ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ کوئی جادو کے زور پر کسی کے کاروبار کو بگاڑنے اور باندھنے کے در پے ہے تو کوئی کسی باپ کو بیٹے سے متنفر کرنے کے لئے کوشاں، کوئی شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف و افتراق پیدا کرنے کی فکر میں ہے تو کوئی خاندانی جھگڑوں کو بھڑکانے میں مصروف، کوئی کسی کے ذہنی سکون و اعتدال کا دشمن بنا ہوا ہے،  راقم نے بچشمِ خود اچھے چلتے کاروباروں کو تباہ ہوتے ، لہلہاتی فصلوں کو سوکھتے ، خوشحال لوگوں کو مفلس ہوتے ، صحت مندوں کو لاغر اور سوکھا ہوا مریض بنتے، محبت کرنے والے شوہروں اور بیویوں کو ایک دوسرے سے دور اور متنفر ہوتے، خوش مزاج لوگوں کو انتہائی  بد مزاج ، چڑچڑا ، ذہنی انتشار اور ہیجان بلکہ ہذیانی کیفیت میں مبتلا ، جنت نما گھرانوں کو جہنم کا نمونہ بنتے، عزیزواقارب بلکہ اہل خانہ کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنتے ، کامیاب شادیوں میں یکدم طلاق ہوتے دیکھا ہے۔

جادو “سحر” انسان کے لئے ایک ناگہانی آفت و مصیبت سے کسی طرح کم نہیں ہوتا۔ یہ بیشتر انسان کی قوت متخیلہ پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کے بگڑ جانے کی وجہ سے انسان کا اندرونی نظام متاثرہو جاتا ہے۔اور یہ ہی ساحر کا اصل مقصد بھی ہوتا ہے۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ چونکہ ساحروں، جنوں اور شیاطین کی جبلت میں فسادِ نظم کا مادہ پایا جاتا ہے لہٰذا جب مسحور کی تدبیرِ جسم ان کے تابع ہو جاتی ہے تو اس کی فکر و عقل ، قلب و احساس اور نظر اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ پھر حسبِ اختیارِ الٰہی ساحر اس کے قوائے جسمانی کو اپنی منشا کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر اس کے قوٰی بھی ساحر کی مرضی کے مطابق عمل شروع کر دیتے ہیں۔ مثلاً امراض یا تکالیف یا خبط یا جنون وغیرہ کا لاحق ہو جانا، حتی کہ مسحور خود کو چاروں سمتوں، چاروں مادوں اور چاروں خلطوں سے جکڑا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے۔

عربی لفظ “سحر” میں سین کو کسرہ (یعنی زیر) ہے۔ جادوگر کے بعض مخصوص کلمات یا گِرَہ لگانے کے عمل یا ان دواؤں یا ان چیزوں کو جن کے ذریعہ جادو کیا جاتا ہے، نیز گرہوں (گنڈوں) میں پھونکنے وغیرہ کو جادو کہا جاتا ہے، جنہیں ساحر عموماً جنوں اور شیطانوں سے سیکھتا ہے۔ جادو وہ ہے جو لوگوں کو سحر زدہ کر دے۔ اس کو جادو اس لئے کہتے ہیں کہ جادوگر اسے خفیہ طریقوں سے کرتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

وَاتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولاَ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَ تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُواْ لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْاْ بِهِ أَنفُسَهُمْ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ۔

اور وہ (یہود تو) اس چیز (یعنی جادو) کے پیچھے (بھی) لگ گئے تھے جو سلیمان (علیہ السلام) کے عہدِ حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) نے (کوئی) کفر نہیں کیا بلکہ کفر تو شیطانوں نے کیا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس (جادو کے علم) کے پیچھے (بھی) لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت (نامی) دو فرشتوں پر اتارا گیا تھا، وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے یہاں تک کہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض آزمائش (کے لئے) ہیں سو تم (اس پر اعتقاد رکھ کر) کافر نہ بنو، اس کے باوجود وہ (یہودی) ان دونوں سے ایسا (منتر) سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے، حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ ہی کے حکم سے اور یہ لوگ وہی چیزیں سیکھتے ہیں جو ان کے لئے ضرر رساں ہیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتیں اور انہیں (یہ بھی) یقیناً معلوم تھا کہ جو کوئی اس (کفر یا جادو ٹونے) کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (ہوگا)، اور وہ بہت ہی بری چیز ہے جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں (کی حقیقی بہتری یعنی اُخروی فلاح) کو بیچ ڈالا، کاش! وہ اس (سودے کی حقیقت) کو جانتے۔