جنات و شیاطین اور ماورائی مخلوق

روحانیت ایک سمندر ہے جس کو اپنے اپنے مشاہدات کے اعتبار سے ہر زمانے میں روحانی استادوں نے اپنے مطابق بیان کیا۔ روحانی علوم پر اب تک جتنا کام ہوا ہے وہ نا صرف قابلِ قدر ہے بلکہ مصنفین نے اپنی عمریں گنوا کر ہمارے لئے راہیں پیداء کی ہیں جن پر ہم چل کر آج تک اپنی زندگیوں کو آسان بنائے ہوئے ہیں۔  ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ کام صدیوں سے جاری و ساری ہے اور ہر دور میں ان علوم کے جاننے والے اپنا حق ادا کرتے رہے ہیں۔  جاننا چاہیئے کہ علامہ شاد گیلانی مرحوم ہوں یا کاش البرنی مرحوم ۔۔۔۔ محترم جناب سید ناظر حسین زنجانی علیہ رحمہ  ہوں یا  صوفی غلام سرور شباب صاحب ۔۔۔ یہ کام آج تک رکا نہیں۔ ان اصحاب نے جو سیکھا اس کو خدمت خلق کے لئے من و عن شائع کیا اور نئے آنے والوں کے لئے علم کی راہیں عموار کیں۔  آج جو کچھ بھی ہم پڑھ رہے ہیں یا جو بھی کام روحانیت کا ہم سے منسوب ہے وہ سب ان ہی اصحاب کی شفقت ہے وگرنہ ہم تو نرے جاہل تھے ۔ حاضرات ارواح سے لیکر رجوع ہمزاد اور علم جفر سے لیکر علم رمل تک کے قوانین ان ہی نیک اصحاب سے ہم کو ملے۔ دیگر وہ تحقیقات جو ان اصحاب نے ماورائی مخلوقات پر کی ہیں اور جو  آگہی اور بچاؤ کی تراکیب سالوں کی مستقل محنت اور تجربے کے بعد ہمارے لئے مرتب کی گئی وہ ایک ایسا خزانہ ہے جس سے آج تک ہر کوئی فیضاب ہو رہا ہے۔ بے شک ہم ان طالب علموں میں سے ہیں جو اپنے آباؤ اجداد اور اساتذہ کا نام لینے سے ہر گز نہیں جھجکتے ۔ بے شک ہم نے ان کی زندگی میں ان کی صحبت اختیار نہ کی ۔۔ ہم ان کے بعد اس دنیا میں آئے مگر روحانیت کے طالب علم کے لئے زمان و مکان کی کوئی قید کہاں ہوتی ہیں۔ ہم تو عقیدت سے ایک کتاب اٹھالیں تو صاحبِ مصنف خود کلاس میں موجود ہوتے ہیں اور ایک ایک حرف سمجھ آتا چلا جاتا ہے۔ بے شک ہم اپنے بزرگوں کو اپنا استاد کہتے ہیں اور ان کی کتب سے ہی سیکھ کر یہاں تک پہنچے ہیں۔

بزرگوں کی باتوں میں کوئی نہ کوئی حقیقت ضرور ہوتی ہے  ۔ جن ، بھوت، پریت ، آسیب اور ارواحِ خبیثہ اور اس نوع کی دیگر بے شمار قوتیں انسانی ذہن پر قبضہ کر کے اسے مختلف ذہنی و جسمانی بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں، کسی ماورائی طاقت کا دماغ پر کنٹرول کر لینا بعید ازقیاس نہیں ۔ دماغ سے خارج ہونیوالی لہریں ایک خاص ویو لینتھ پر کسی شر کی قوت کے زیر اثر آجائیں تو اس میں کیمیاوی تبدیلیاں پیداء ہو جاتی ہیں۔ روحانیت کے ماہرین چلہ کشی سے دماغ کی لہروں کو ایک خاص نقطے پر مرتکز کر کے اس سے حیرت انگیز کام لیتے ہیں۔ آسیبی قوتوں کو سائینسی لیبارٹری میں نہیں دیکھا جا سکتا قدرت کاملہ نے انسانی آنکھ کو اس زاویہ سے بنایا ہی نہیں کہ جنوں کو دیکھ سکے۔ جنوں کی شکل و صورت لہروں کی جس فریکیونسی سے بنی ہے وہ انسان کے دیکھنے کی قدرت سے باہر ہے۔ البتہ بعض لوگ مراقبوں اور خاص چلوں اور مخصوص ریاضتوں سے اپنے اندر یہ صلاحیت ضرور پیداء کر لیتے ہیں کہ وہ ان دیکھی چیزوں سے رابطہ کر سکیں ۔

ایسی ہی صلاحیتیں ہمارے کورس “تیسری آنکھ” میں پیدار کی جاتی ہے جو مخصوص مراقبہ پر مشتمل ایک ایسا طریقہ ہے جس سے یہ قوت پہلے دن سے ہی اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتی ہے۔

 اہل عرب ازروئے لغت جن ، ہر اس چیز کو کہتے ہیں  جو نظر نہ آسکے  اور فرشتے بھی ہمیں نظر نہیں آتے اس لیئے اہل عرب فرشتوں کو بھی جن کہتے ہیں۔ بہشت بھی ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے اس لیئے لغت عرب میں بہشت کا نام جنت ہے۔ لیکن جن اصطلاح کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی اس مخلوق کا نام ہے جسکو قدرت نے آگ کے شعلوں سے پیداء فرمایا ہے اور وہ اپنے مادہ کی لطافت  کے اعتبار سے ایسی قوت و اختیار رکھتے ہیں کہ وہ حسبِ منشاء ہر صورت میں متشکل ہو سکتے ہیں۔ کتب میں تحریر ہے کہ   حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً سوال لاکھ برس پہلے اللہ تعالیٰ نے جنات کو پیداء کر کے زمین پر آباد کیا تھا۔ ان کی بد اعمالیوں کے سبب اللہ عزوجل نے آسمان پر رہنے والے جنّوں کو ان کی سرکوبی کا حکم دیا۔ اس لشکر کا امیر ابلیس تھا ۔ اس نے زمین پر آتے ہی قتل عام شروع کر دیا۔ جنّات جان کے خوف سے ویرانوں ، کھنڈروں اور گھنے پیڑوں وغیرہ میں چھپ گئے ۔ بعد میں جب ابلیس نے بھی سرکشی کی اور آسمان بدر کر دیا گیا۔ تو اس نے ادھر اُدھر چھپے ہوئے جنّوں میں سے باطل عقیدے کے جنّوں کو اپنا حواری بنا لیا۔

محمد بن کعب القرظی سے روایت ہے کہ جن اور شیاطین اصل کے اعتبار سے ایک ہیں۔ مگر ایماندار جن کے نام اور کفار شیاطین کے نام سے موسوم ہیں۔ حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جسطرح انسانوں کے مختلف مذاہب ہیں اس ہی طرح جنات بھی مختلف مذاہب رکھتے ہیں ، جنات مسلمان بھی ہیں۔۔۔۔ ہندو بھی۔ ۔۔۔۔ یہودی اور قدریہ ، مرحبیہ  بھی اور رافضی  بھی ہیں وغیرہ۔ اور ان میں سے کچھ محبوسی اور ستارہ پرست بھی ہیں۔

چنانچہ جنّات کا ظاہری جسم انسان کی روح ِ ہوائی کی طرح لطیف ہے ۔  روح کے ساتھ اختلاط سے اصل کی لطافت اور بھی بڑھ جاتی ہے یہی سبب ہے کہ انکا جسم مختلف شکلیں اختیار کر سکتا ہے۔ بحر حال یہ مخلوق کبھی اصل صورت پر باقی رک کر مسامات اور رگوں کے ذریعے جسم انسانی میں داخل ہو کر تغّیرات کا باعث ہوتی ہے۔ اور کبھی کثیف جسم اختیار کر کے اچھی یا بری یا ہولناک شکل و صورت میں سامنے آتی ہے۔

ابن الحاج التملسانی المغربی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ یوں تو جنّات کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ستّر گروہ زیادہ مشہور ہیں ۔ جس کے ہر گروہ میں ستر ستر ہزار قبیلے ہیں۔ اور ہر قبیلے میں ستر ہزار فخد ہیں۔ اگر آسمان سے ایک سوئی زمین پر گرائی جائے تو ان ہی پر گرے گی۔ چنانچہ عفاریت تو چشموں اور غاروں میں رہتے ہیں۔ اور شیاطین گھروں میں رہتے ہیں۔ اور قبروں کو انہوں نے آباد کر رکھا ہے یعنی انسانوں کے قبرستانوں کے پاس رہتے ہیں۔ اور طواغیت خون کے پاس، پس جب خون گرتا ہے وہیں حاضر ہو جاتےہیں یہاں تک کہ اگر ایک قطرہ بھی خون کا گرتا ہے تو بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ آپہنچتے ہیں۔ اور ہوا کی تو کچھ اصل ہی نہیں۔ اور بعض جنّات ہواؤں پر پھرتے ہیں ۔ اور بعض آگ کے نزدیک اور بعض جنّات بصورت آدمی بڑے بڑے درختوں کے پاس رہتے ہیں اور باغوں میں گھس جاتےہیں۔ بعض پہاڑوں اور کھنڈروں میں بود و باش رکھتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر ایسے ہیں کہ مرد و عورت کو ضرر پہچاتے ہیں ۔ عفاریت میں سے بعض جنّات ایسے ہیں کہ وہ عورتوں سے ہمبستری کر لیتے ہیں اور بعض اس کو پسند کرتے ہیں کہ کوئی عورت ان کی بیوی ہوتی اور بعض انسان کے اعضاء بیکار کر دیتے ہیں۔

اقسام بلحاظ نوع
۔ اصحاب العیون والکھوف :۔ چشموں اور غاروں میں رہنے والے۔
۔ اصحاب مقابر:۔ قبرستانوں اور مقابروں میں رہنے والے۔
۔ اصحاب دم :۔ مذبہ خانوں اور خون کے قریب رہنے والے۔
۔ زوابعہ :۔ ہواؤں پر سوار رہنے والے۔ ان کی اقسام تین ہیں۔ ((ا) یہ یہ بنو قیعان بھی کہلاتے ہیں۔ (ب) یہ دوسری قسم زوابعہ کی توابع کہلاتی ہے ۔ (ج) تیسری قسم اصحاب صرع ہے۔ )
۔ اصحاب النّار :۔ آگ کے قریب رہنے والے۔
۔ تواقیف :۔ انسانوں کی شکل و صورت یعنی متشکل انسانوں میں رہنے والے۔
۔ اصحاب الاشجار :۔ درختوں پر رہنے والے۔
۔ اصحاب السّوک العلیق :۔ یہ خاردار درختوں اور جھاڑیوں پر  رہتے ہیں۔
۔ اصحاب الباتین :۔ یہ باغوں میں رہنے والے ہوتے ہیں ، انہیں سبامب بھی کیا جاتا ہے۔
۔ اصحاب الجبال الشّامخہ :۔ بلند پہاڑیوں میں رہنے والے۔
۔ زانی :۔ یہ انسان عورتوں اور لڑکیوں سے زناء کرنیوالے ہوتے ہیں۔
۔ عشّاق :۔ یہ زانی نہیں ہوتے بلکہ شرعی عقد کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
۔ مفسد خلق :۔ یہ جنین میں نقص پیدا کر کے کسی عضو کو بے حس یا شک کر کے بیکار کر دیتے ہیں۔