جنات کی حقیقت

اس محسوس و معلوم عالم سے نفوس انسانی متعارف ہیں، اس کی نئی اور عجیب و غریب چیز کے علاوہ کوئی چیز ان پر گراں نہیں گزرتی، لیکن اس کے باوجود جو چیزیں اس جہاں میں پوشیدہ اور مخفی ہیں، انسان ان کی تحقیق و تلاش میں رہتا ہے، وہ نظر سے غائب چیزوں کا کھوج لگانے اور پوشیدہ اسرار و رموز پر مطلع ہونے کا ذوق و شوق رکھتا ہے۔ جنات کا جہان بھی انہی چیزوں میں سے ہے جن کے جاننے کے متعلق دلوں میں شوق رہتا ہے۔ انسان جنات کے احوال جاننے کے لئے اہل علم کی ان تصنیفات کا متلاشی رہتا ہے جن میں اس موضوع پر کچھ نہ کچھ خامہ فرسائی کی گئی ہو۔ لوگوں کے اسی ذوق و شوق کو دیکھتے ہوئے بعض اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں جنات کے احوال وغیرہ پر مفصل بحث کی گئی ہے اور حسب استطاعت جو معلومات مل سکی ہیں ان کو اس میں جمع کیا گیا ہے۔ خاص طور پر جنات کا انسان پر مسلط ہونا اور انھیں تکلیف سے دوچار کرنا، جو بعض اوقات ان کی مرضی سے ہوتا ہے اور بعض اوقات انھیں مجبور کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔

(وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا)

(سورۃ جن – 6)

انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں سے پناہ طلب کیا کرتے تھے اور اس چیز نے انھیں سرکشی میں بڑھا دیا۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان امراض و خطرات میں مبتلا رہتا ہے، بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگیاں پریشانیوں کے بغیر صحیح طریقے سے گزرتی ہیں۔  کہتے ہیں انسان  ہمیشہ آٹھ قسم کے حالات سے دو چار رہتا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی کا ان سے واسطہ نہ پڑے، خوشی اور غم ، ملاپ اور جدائی ، آسانی اور تنگی، بیماری اور عافیت۔

لیکن یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی حکمت کے تحت ہوتا ہے، جسے بعض اوقات انسان سمجھ لیتا ہے اور بعض اوقات نہیں سمجھ سکتا۔ تاہم اگر انسان صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے تو پریشانی اور مصیبت بھی اس کے لئے اجر و ثواب ہے۔  نبی کریم نے ارشاد فرمایا:۔
مومن کا معاملہ (اپنے رب سے) بڑا ہی عجیب ہے، ہر معاملہ میں اس کے لئے خیر و بھلائی ہی ہے، (کیونکہ) اگر اسے کوئی خوشی نصیب ہو تو وہ رب کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے حق میں بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے۔

(مسلم)

تاہم اس ابتلا و آزمائش اور بیماری سے کلی طور پر نجات یا اس میں تخفیف بھی ممکن ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ مسلمان ان شرعی اسباب پر عمل کرے جن پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ تکلیف دور ہو جاتی ہے۔ ان اسباب میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں:۔

 بندہ اپنے رب کے احکامات کی حفاظت کرے۔ جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا

((احفظ اللہ یحفظکَ))
“تو اللہ تعالیٰ (کے احکامات) کا خیال رکھ، اللہ تعالیٰ تیرا خیال رکھے گا۔”
(مسند احمد)

 آسانی میں اللہ کے احکامات کی پیروی اور نواہی سے اجتناب کر کے اللہ تعالیٰ کی پہچان و خیال رکھنا۔ جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا:۔

((تعرف الی اللہ فی الرخائ یعرفک فی الشدۃ))
تو آسانی کے ایام میں اللہ تعالیٰ کی پہچان رکھ تو وہ سختی اور تنگی میں تیرا خیال رکھے گا۔

(مسند احمد)

 صدقہ و خیرات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا، کیونکہ صدقہ مصیبت کو ختم یا کم کر دیتا ہے، جیسا کہ رسول کریم نے فرمایا:۔
((صنائع المعروف تقی مصارع السوء))
“صدقہ و نیکی کے کام برائی کی کھائیوں میں گرنے سے بچاتے ہیں۔”

(طبرانی کبیر)

اللہ تعالیٰ سے التجا و عاجزی اور اس ذات پر مکمل توکل اور عقیدہ رکھنا کہ نفع و نقصان صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور یہ عقیدہ رکھنا کہ اگر تمام انسان مل کر مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہیں تو وہ اس کے سوا کوئی تکلیف مجھے نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے میرے مقدر میں لکھی ہوئی ہے اور اسی طرح تمام بنی آدم مل کر اگر مجھے کوئی فائدہ دینا چاہیں تو مجھے اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں دے سکتے جو اللہ تعالیٰ نے میرے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔

جب انسان دیکھے کہ وہ کسی بیماری سے دوچار ہے ، وہ کسی ابتلا و آزمائش میں مبتلا ہے تو اسے علاج کے لئے ان تمام وسائل و اسباب کو بروئے کار لانا چاہئے جو شرعاً جائز ہیں۔ کیونکہ شرعی طور پر علاج کرنا کبھی واجب ہے، کبھی مستحب اور کبھی مباح ہوتا ہے۔ واجب ، مستحب اور مباح کا فیصلہ مرض اور مریض کی حالت کو دیکھ کر کیا جائے گا، تاہم یہ بات ضروری ہے کہ علاج شریعت کے مطابق ہو، حرام چیز سے یا حرام تک پہنچا دینے والے ذرائع سے نہ ہو اور نہ اس میں مریض یا کسی اور کا نقصان ہو۔ نبی کریم نے ارشاد فرمایا

(تداوو عباد اللہ ولا تدا ووا بحرام))

اے اللہ کے بندو ! علاج معالجہ کرو ، لیکن حرام سے علاج نہ کرو۔

ایک اور جگہ فرمایا

“اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، ساتھ اس کا علاج بھی نازل کیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ کسی نے اس کا علم حاصل کر لیا اور کوئی جاہل رہا۔”

اس موضوع پر لکھنے کا اصل سبب آگہی ہے، کیونکہ جنات بھی ہمارے ساتھ ہی آباد ہیں، وہ بھی ہماری طرح صاحبِ عقل ہیں۔ اس زمین پر ہمارے آس پاس ان کی بھی رہائش ہے، بعض اوقات وہ ہمارے ساتھ کھانے پینے میں بھی شریک ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات ہمارے لئے اذیت و تکلیف کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ان کے بارے میں قرآن و حدیث میں کئی ایک دلائل موجود ہیں بلکہ قرآن پاک میں ایک سورۃ انہی کے نام سے نازل  ہئی ہے۔ جو خصوصی طور پر ان کے واقعات پر مشتمل ہے۔

تحقیقِ جنات کے موضوعات پر لکھنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں شیطان اور اس کے معاون سرکش جنات کی چالوں اور سازشوں کی پہچان ہو جائے۔ کیونکہ ان کی چالوں اور سازشوں کی پہچان کے بعد ان سے بچاؤ آسان ہو جاتا ہے ۔ پھر ان کی اذیت اور تکلیف سے بچنے کے لئےایک مضبوط قلعے  کی ضرورت ہے جو تقوٰی ، اللہ کی پناہ طلب کرنے، اوامرونواہی کی پابندی اور شرعی اذکار پر ہمیشگی ہی میں مضمر ہے ۔

ایسے تمام مضامین اور کاوشوں کا مقصد اللہ سے تعلق مضبوط کرنا اور یہ عقیدہ بنانا کہ پناہ صرف اللہ ہی کی طرف سے ممکن ہے، وہی شفا دہنے والا ہے، اس لئے صرف اسی سے شفا طلب کی جائے، وہی عافیت دینے والا ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے:۔

((وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ))

اور جب میں بیمار ہوتا ہوں  تو وہی مجھے شفا دیتا ہے ” سورة الشعراء”

اور اگر شفا مقدر میں نہ ہو تو وہم پرستی اور شیطانوں کے پیچھے لگنے کے بجائے صبر کرنا اور اللہ تعالیٰ سے اجر کا امید وار رہنا، اس حوالے سے لوگوں کی اصلاح کرنا۔ تمام مضامین کی تلاش میں نامور اور مستند علماء و اکابرین اور کاملین و عاملین و صوفیاء کرام کی کتب سے مدد لی گئی ہے۔ تا کہ قارئین تک حق کی بات پہنچائی جا سکے۔ دعا ہے اللہ ہماری ان کاوشوں کو قبول فرمائے۔

آمین یا رب العالمین