جنات کے گروہ

جن و اِنس شریعتِ محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مکلف ہیں۔ مگر وہ  بھی انسانوں کی طرح فرقہ بندی اختیار کر کے یہودی ، عیسائی، نصرانی، محبوسی ، ہندو اور مسلمان بن گئے ہیں۔ شیخ عبدالوہاب الشعرانی صاحب الیواقیت و الجواہر میں لکھا ہے کہ جنّات تین خصوصیات کے حامل ہیں۔
۔ جنات دنیا میں انسانوں کو نظر نہیں آتے۔ مگر جنت میں انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہیں گے۔ دنیا کی طرح انسانی نظروں سے محبوب نہ ہونگے۔
۔ جنات جو شکل و صورت اختیار کرتے ہیں ، یا جس مخلوق کا روپ اختیار کرتے ہیں انکی آواز بھی اس ہی مخلوق جیسی ہو جاتی ہے، جیسے کسی عورت کا روپ بنائیں تو انکی جسم اور آواز دونوں ہی عورت ہونگے۔
۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ جب انسان عزیمت پڑھتا ہے یا ان کو قسم دی جاتی ہے تو وہ اس کو پورا کرنے پر مجبور ہیں۔

نوٹ : جنات کی تسخیر، تابع، اور حاضرات وغیرہ میں جو ورد کیا جاتا ہے وہ زیادہ تر عزیمت پر مبنی ہوتا ہے اور جب جنات حاضر ہوتے ہیں تو ان کو قسم دی جاتی ہے۔ اور باقاعدہ عہد لیا جاتا ہے۔ 

تاہم جنات بھی اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے بعض ان میں خواندہ ہیں اور بعض ناخواندہ ۔ جاہل جنات انسانوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اس کے متعلق  جناب مولانا اشرف علی محدث تھانوی اپنی کتاب  “التکشف التصوف” میں کچھ اسطرح فرماتے ہیں۔ حضرت ایوب سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک تجوری میں خرما بھر رکھے تھے۔ اور خبیث جنّات آکر اس میں سے لے جایا کرتے تھے۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اب اگر دیکھو تو یوں کہہ دینا  “بسم اللہ اجیبی رسول اللہ ” یعنی اللہ کے نام سے مدد لیتا ہوں رسول اللہ کا بلایا ہوا چل ۔یہ روایت ترمذی میں موجود ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ خبیث جنات انسانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

قارئین کے لیئے یہ بھی جاننا اشد ضروری ہے کہ جنّات کی بہت سی اقسام ہیں۔ اور انکے علیحدہ علیحدہ اوصاف اور الگ الگ کام ہیں۔ یہاں صرف چند گروہ کے رہنے کی جگہ اور ان کی شرارتوں کے بارے میں تحریر کیا جاتا ہے۔ تاکہ اس مضمون کو پڑھنے والے کی سمجھ میں وہ باتیں آجائیں جن کا جواب اسے آج تک کسی نے نہ دیا۔

پہلا گروہ
ارواح خبیثہ کی یہ قسم کسی گھر مکان کے اندر سکونت اختیار کرتی ہے اور اس گھر کے افراد کو خواب اور بیداری میں ڈراتی اور دکھ تکلیف پہنچاتی ہے۔ دنیا کے ہر شہر میں کوئی نہ کوئی ایسا گھر اور مکان ضرور ہوتا ہے جن میں یہ عامر جن رہائش رکھتے ہیں۔ ایسے مکانات اور گھروں میں اس گروہ کے جنّات مختلف حرکتیں کرتے ہیں۔ نشاندہی کے لیئے وہ حرکات بھی تحریر کی جا رہی ہیں۔
۔ بعض اوقات گھر میں رہنے والوں پر اینٹیں اور پتھر برساتے ہیں۔
۔ بعض جگہ نجاست والی چیزیں پھینکتے ہیں۔
۔ گھروں میں موجود الماریوں سےچیزیں نکال کر نیچے گراتے ہیں۔
۔ کئی بار یہ ہی جنات و شیاطین گھروں میں موجود کپڑوں اور سامان کو آگ بھی لگا دیتے ہیں۔ یہ گروہ ایسا ہے کہ غیر آباد اور تاریک مکانوں میں بھی بسیرہ کر لیتا ہے اس ہی لیئے حدیث مبارکہ میں ہے کہ شام کے بعد اپنے مکانوں کے دروازے کھلے نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ کیونکہ ایسے وقت میں بعض مسافر جنّات آکر ان میں بسیرا کر لیتے ہیں۔ بعض گھروں اور دکانوں کی برکت سلب کر لیتے ہیں۔ گھروں میں فساد اور جھگڑے پیداء کرتے ہیں۔ گھر میں رہنے والے افراد کے درمیان تفرقہ اور عداوت ڈالتے ہیں۔ سفلی عاملین اسی گروہ کی مدد سے یہی سارے کام لیتے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔

دوسرا گروہ
یہ وہی گروہ ہے جس میں جنات و شیاطین اور ارواحِ خبیثہ انسانوں پر مسلط ہو جایا کرتی ہیں۔ جس سے انکی صحت خراب ہو جاتی ہے اور سخت لاعلاج امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جو حکماء اور ڈاکٹروں کی دواؤں سے ہرگز علاج پذیر نہیں ہوتے۔ بعض دفعہ اسی گروہ کے جنات انسان کے جسم کے کسی خاص حصے کو متاثر بھی کر دیتے ہیں۔ تو وہ حصہ مثل مفلوج اور بیکار ہو جاتا ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر لازمی سمجھتے ہیں کہ زیادہ فالج اور لقوہ جیسی بیماریاں بھی ان ہی جیسے جنات سے منسوب ہیں۔ بیماری میں مبتلا کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ جنات کے علاج کی نوبت نہ آئے اور انسان داکٹروں کے علاج میں پھنسا رہ جائے۔ جیسے عام زندگی میں کسی کو فالج جسم کے آدھے حصے پر ہوتا ہے یہ اس ہی طرح مفلوج کرتے ہیں۔ درحقیقت فالج نہیں ان کا اثر ہوتا ہے ۔  جو لوگ اس قسم کے شیطانی اور جنونی آسیب کا انکار کرتے ہیں گویا وہ حقائق قرآنی کا انکار کرتے ہیں۔ کیونکہ اللی تبارک و تعالیٰ قرآنِ کریم میں حضرت ایوب علیہ السلام  کی زبانی فرماتے ہیں۔

ترجمہ : یعنی شیطان نے مجھے چھو کر اپنے آسیب سے دکھ اور عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔

بعض اوقات ارواح خبیثہ جب انسانوں پر مسلط ہو جاتی ہیں ۔ یا سفلی جادو گر اپنے عمل کے ذریعے مسلط کر دیتے ہیں تو یہ انسانوں کو طرح طرح کی تکالیف میں مبتلا کرتی ہیں اس گروہ کے جنات کو بھی تسخیر کیا جاتا ہے ۔

تیسرا گروہ
اس گروہ میں شامل جنات و ارواح خبیثہ اکثر قبرستانوں میں اور ان کے گرد و نواح میں اپنا بسیرا کرتی ہیں۔ یہ جنات زندگی میں انسانوں کے ہمراہ رہنے والے طبعی اور ہمزاد ہوتے ہیں۔ جو موت کے بعد جسدِ عنصری سے جدا ہو کر کچھ عرصہ متوفی لوگوں کی قبروں پر منڈلاتے رہتے ہیں ۔ ہندو لوگوں میں یہ عقیدہ عام طور پر پایا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد مردہ روح بھوت بن کر مردہ کے خویش و اقارب پر بعض دفعہ مسلط ہو جاتی ہے۔ اس لیئے یہ لوگ جب کبھی اپنے مردے کو جلانے کے لیئے مرگھٹ پر جاتے ہیں تو اپنا لباس اور حلیہ تندیل کر کے اس قدر مبالغہ کرتے ہیں کہ اپنے مردہ کے بعد سر ، داڑھی اور مونچھیں تک منڈوا ڈالتے ہیں۔ تاکہ موت کے بعد متوفی کی روح بھوت بن کر انہیں پہچان نہ سکے۔ در حقیقت یہ مسئلہ ایسا نہیں کہ مردے کی روح بھوت بن جائے بلکہ اسکا ہمزاد جو پیدائش سے اس کے ساتھ لگا ہوتا ہے موت کے بعد اس کے جسدِ عنصری سے الگ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات وہ ہمزاد موت کے بعد متوفی کے کسی گھر والے یا کسی اور انسان پر مسلط ہو جاتا ہے۔

چوتھا گروہ
شیاطین اور جنات کا یہ گروہ بوچڑ خانوں اور ذبحہ گاہوں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے۔ اور جانوروں کے خون اور ہڈیوں سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گوبر، ہڈی اور کوئلے سے استنجا کرنے سے اپنے اصحاب کو منع فرمایا ۔ اور فرمایا کہ یہ چیزیں جنات کی خوراک ہیں۔ جب ان سے استنجا کیا جائے تو پھر وہ جنات کی خوراک کے قابل نہیں رہتے۔
دراصل بات یہ ہے کہ جنات ہڈی ، گوبر اور کوئلےکو بعینہ کھا نہیں لیتے بلکہ ان میں فاسفورس اور کاربن کی قسم کی خارج ہونے والی گیسوں میں ان کی خوراک موجود ہوتی ہے۔ اس لیئے بوچڑ خانوں اور مذبحہ گاہوں کے پاس اس قسم کے جنات اپنی مخصوص خوارک حاصل کرنے کے لیئے آتے ہیں اور بعض اوقات انسانوں کر تنگ کرتے ہیں۔

پانچواں گروہ
جنات کا یہ گروہ پرندوں کیطرح ہوا میں چکر لگاتا رہتا ہے۔ اسی گروہ کے جنات حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت کو اٹھائے رہتے تھے۔اس قسم کے جنات کو اگر تسخیر کر لیا جائے تو یہ اپنے عامل کو مختلف ممالک کی سیر بھی کرا سکتے ہیں۔ اس گروہ کے جنات کا عامل ہوا میں اڑ سکتا ہے تبّت کے علاقے میں اسطرح کے عامل پائے جاتے ہیں۔

چھٹا گروہ
جنات وشیاطین کا یہ گروہ اصل ناری قسم کا ہوتا ہے۔ اور اس گروہ کے جن شیاطین کسی شخص پر مسلط ہو جائیں تو مریض انگارے کھاتا ہے اور شعلے نگلتا ہے۔ ان جنات کے عامل آگ میں گھس سکتے ہیں اور آگ سے کھیلتے ہیں۔ اور صحیح سل امت رہتے ہیں۔ تاہم یہ جنات اگر کسی پر مسلط ہو جائیں تو کوئی طاقتور عامل ہی ان سے چھٹکارا دلا سکتا ہے۔

ساتواں گروہ
اس گروہ کے جنات و شیاطین اکثر جنگلوں اور باغات کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ مختلف شکلوں اور صورتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض بہت چھوٹے اوت بعض بہت بڑے ہوتے ہیں۔ اور رنگ برنگ کی سرخ ، زرد اور سبز وردیوں میں ملبوس رہتے ہیں۔ جو لوگ جنگل میں درخت کاٹتے ہیں وہ لوگ بعض دفعہ اس قسم کے جن شیاطین کے آسیب میں آجاتے ہیں۔ اسی گروہ کے جن بھوت اور مؤنث قسم باغوں اور سر سبز کھیتوں میں انسانوں پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے جنات اور شیاطین کو راقم السطور نے نہ صرف دیکھا بلکہ ان کے زیر اثر اشخاص کا علاج بھی کیا ہے۔ یہ جنات اور شیاطین جہاں پھول ہوں باکثرت پائے جاتے ہیں اور عورتوں سے انسانوں کی طرح جماع اور مباشرت بھی کرتے ہیں۔ خواب میں کسی مرد کا عورت  سے جماع کرنا اور کسی عورت کا مرد سے مباشرت کرانا اس قسم کے آسیب کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔

آٹھواں گروہ
یہ زانی اور شہوانی جنّات و شیاطین کا گروہ ہے۔ جو جوان مردوں ، لڑکوں اور عورتوں نیز خوبصورت کنواری نوجوان لڑکیوں پر مسلط ہو کر غلط ترغیب دیتا ہے۔ اس گروہ میں لوطی جنات و شیاطین بھی پائے جاتے ہیں جو مردوں سے طوالت کے قبیح فعل کا ارتکاب فاعلی اور مفعولی دونوں صورتوں میں کرتے اور کراتے ہیں۔ یہ شیاطین جن لوگوں پر مسلط ہو جاتے ہیں وہ ہرگز کسی صورت میں اس فعل بد سے باز نہیں آتے۔ ان کے لوطی تسلط اور تصرف سے بعض اشخاص اپنی جوان خوبصورت عورتوں سے منہ پھیر کر دیوانہ وار دن رات فطری وجع کے خلاف فعل کرتے ہیں۔ اور ذرا نہیں شرماتے۔ اور بعض اوقات مفعولیت کی صورت میں مرتے دم تک یہ شرمناک فعل کرتے اور کرواتے پائے جاتے ہیں۔ ان جنات کے مسلط ہونے کے بعد بعض مرد اپنی بیویوں سے بھی یہ فعل کرتے ہیں اور یہ مرد و عورت کا علاج ذرا مشکل ہوتا ہے کیوں کہ اس میں مریض اور علاج کرنے والے کی جان کو سخت خطرہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ اسطرح کے جنات کے عاملین بھی زانی ہوتے ہیں اور زبردست سفلی کرنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ ایک نوری عامل کے لیئے سب سے بڑا مسئلہ پہلے اس عامل سے لڑنا اور بعد میں جنات کو قابو کر کے عہد لینا ہوتا ہے اور یہ اتنا آسان نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج لفظ “عامل” اپنی اصلیت و وقار کھو بیٹھا ہے۔ آج کے انسان میں عامل کا لفظ سنتے ہی ایسے سفلی بابا لوگوں کا خیال آتا ہے جو گندے عملیات کرتے ہیں اور جنات کو رکھنے کا دعوٰی بھی کرتے ہیں۔  ایسا عامل بھی شیطان کا ہی چیلہ ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس گروہ کے جنات و شیاطین سے ہر ایک کو محفوظ فرمائے ۔ آمین  

نواں گروہ
اس گروہ کے جنات و شیاطین انسان پر مسلط ہو کر ان کو بیمار کر دیتے ہیں۔ اور انسانوں کا خون چوستے ہیں۔ یہی ظالم حیوانات پر بھی مسلط ہو جاتے ہیں۔ اجثر دودھ دینے والی گائے، بھینس اور بکریوں اور بھیڑوں پر یہ مسلط ہو جاتے ہیں۔ اور جانروں کے بچے مرنے شروع ہو جاتے ہیں۔ جانوروں کے دودھ اور مکھن کی کمی بیشی میں ان جن شیاطین کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ ایسے کسی اثر کے لیئے میں آگے بھی ایک مخصوص نقش بنا کر عوام الناس کو اس سے آگاہ کر دوں گا تاکہ فائدہ حاصل ہو سکے۔

دسواں گروہ
اس گروہ کے جن شیاطین بتوں اور مورتیوں میں گھس کر لوگوں کو بت پرستی کے مشرکانہ رسوم و رواج کا موجب بنتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس بات کو سن کر میرے کچھ ہندو پڑھنے والے ناراض بھی ہوں لیکن میں اپنے عقائید و اصول کا پابند آدمی ہوں میں تو سچ لکھوں گا ہی کیوں کہ زیادہ تر سفلی عاملین تو بنگال اور ہند سے ہی ملے ہیں ۔ جس کی ہمیں پرواہ نہیں کیوں کہ بندہ اگر حق پر ہو تو بھلے سے ہزاروں کا لشکر کیوں نہ آئے ایک کلمہ توحید ہی کافی ہوتا ہے۔  اس قسم کے جن شیاطین طرح طرح کے مکرو فریب سے اپنے پجاریوں کو اپنی پرستش پر پھنساتے ہیں۔جب پجاری حضرات کسی دن ان کی پرستس کی کوتاہی کرتے ہیں تو یہ جنات ان کے گھروں پر مسلط ہو جاتے ہیں اور ان کو ستاتے ہیں اور جب چھڑھاوے چھڑھائے جاتے ہیں تو یہ معاف کرتے ہیں اور پھر اپنی پرستش کرواتے ہیں۔ لہٰذا کلکتہ کی کالی دیوی جو ایک سخت قسم کی خونخوار بھوتنی ہے اس معاملے میں کافی مشہور چلی آرہی ہے۔ جس کے آگے انسانوں کی وربانیاں تک دی جاتی ہیں جب تک کسی بےگناہ کو  اس کی دہلیز پر ذبح نہ کر دیا جائے  یہ اپنے پجاریوں سے ناراض سمجھی جاتی ہے۔  لہٰذا ان جنات کے عاملین بھی غضب کے سفلی جادوگر مانے جاتے ہیں۔

گیارہواں گروہ
اس گروہ میں وہ جنات و شیاطین شامل ہیں جو کاہنوں ، ساحروں ، جادوگروں اور سفلی عاملوں کے پاس خبریں لاتے ہیں۔ یا اپنے عاملین  کے دم تعویذ گنڈے ، جھاڑ پھونکوں اور ٹونے ٹوٹکوں جادو سحر میں ان کی امداد کرتے ہیں۔ اور ان کے دم قدم سے ان کے سفلی اعمال چلتے ہیں۔  اور اسطرح کے سفلی عامل اپنے خبیث مؤکلوں کی طرح پلید اور طیب ارواح سے بچنے کی خاطر اپنے ارد گرد گوبر اور گندگی کا حصار کرتے ہیں۔  ہندؤں کے کنبھ کے میلے میں ایسے سادھؤں اور سفلی عاملین کی آمد ہزاروں کی تعداد میں ہوتی ہے۔  اور کچھ جاہل حضرات ان کو کوئی پہنچا ہوا بابا سمجھ کر ان کے درشن کرتے نظر آتے ہیں۔

اس علاوہ بھی بہت گروہ ہیں جنکا ذکر کرنا مقصود نہیں جو کچھ اہم تھا میں لکھتا چلا گیا ہوں۔