حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیریؒ

نام ونسب

آپ کا نام معین الدین حسن اور لقب سلطان الہند تھا۔عوام الناس میں آپ خواجہ غریب نواز کے عرف سے مشہور ہیں۔ آپ کے والدماجد کا نام خواجہ غیاث الدین حسن اور والدہ ماجدہ کا نام بی بی ماہ نور تھا۔آپ نجیب الطرفین سیدتھے۔ آپ کا سلسلہ نسب والد محترم کی طرف سے خلیفۂ راشد داماد رسولؐ حضرت علی ؓسے جاملتا ہے۔

والد محترم حضرت امام حسینؓ کی نسل سے اور والدہ محترمہ حضرت امام حسنؓ کی نسل سے تھیں۔آپ کاوالد محترم کی طرف سے سلسلہ نسب یہ ہے:معین الدین بن سید غیاث الدین بن سید نجم الدین بن سید عبد العزیز بن سید ابراہیم بن سیداویس بن امام موسی کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام علی زین العابدین بن امام حسین بن حضرت علیؓ

پیدائش

آپ کی پیدائش 14رجب 536ھ کوملک فارس کے علاقہ خراسان کے قصبہ سنجر میں ہوئی۔ اسی مناسبت سے آپ کو ’’پیرِ سنجر‘‘ بھی کہا جاتا ہے جیساکہ بانگ درا میں علامہ اقبال نے آپ کو ’’پیرِ سنجر‘‘ کہہ کر اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔

ابتدائی تعلیم و تربیت

حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی کے والد محترم تاجراور بااثر شخص تھے۔ خواجہ صاحب کا بچپن خراسان میں گزرا اور یہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد 544ھ میں مزید تعلیم کے لیے آپ کو مدرسہ نیشاپور میں داخل کروادیا گیا۔جب آپ کی عمرپندرہ سال ہوئی تو آپ کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔کچھ عرصہ بعد آپ کی والدہ محترمہ بھی اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔

پیشۂ باغبانی

والدین کی وفات کے بعد تعلیمی سلسلہ بحال نہ رہ سکا جس کا آپ کو بہت دکھ تھا۔ والد محترم کے ترکہ میں خواجہ صاحب کو ایک باغ اور ایک پن چکی ملی۔آپ اپنا زیادہ وقت باغ کی دیکھ بھال میں گزارنے لگے۔

علوم ظاہری کا حصول

وقت گزرتا گیا۔خواجہ صاحب اپنے باغ کی دیکھ بھال میں مصروف رہے۔ایک روز ایک مجذوب بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا اور آپ سے کچھ کھانے کے لیے طلب کیا۔آپ نے و اما السائل فلا تنھر پر عمل کرتے ہوئے کمال عقیدت سے کچھ خرمے پیش کیے۔مجذوب کو آپ کی عقیدت اور احسان بہت پسند آیا۔ اس نے چند خرمے اپنا لعاب دہن لگا کر خواجہ صاحب کوکھانے کے لیے واپس دئیے جسے خواجہ صاحب نے قبول کیا اوران کا کھانا ہی تھا کہ خواجہ صاحب سے علائق دنیا الگ ہوگئے اور قلبی حالت یکسر بدل گئی اور ہر دنیاوی چیز بے حقیقت لگنے لگی۔آپ نے زادِ راہ جمع کیا اورسمرقند و بخاراکی طرف رختِ سفر باندھا۔

سمرقند میں آپ نے قرآن کریم حفظ کیا۔حدیث،تفسیر اور فقہ میں طاق ہوئے اور علوم ظاہری سیکھے۔سمرقند میں مشہور عالم شرف الدین ؒ اور پھر بخارا میں شیخ حسام الدینؒ سے علوم دینیہ حاصل کیے۔

(معین الاولیاء فارسی از سید امام الدین حسن صفحہ3)

علوم باطنی کے لیے سفر عراق

علوم باطنی کے حصول کے لیے خواجہ صاحب نے عراق کے سفر کا ارادہ کیا۔راستہ میں حضرت عثمان ہارونیؒ سے ملاقات ہوئی۔ آپ کو ان کی صحبت اور پاکیزہ مجالس ایسی پسند آئیں کہ آپ حضرت عثمان ہارونی کے حلقہ ارادت میں شامل ہوکر اکتساب فیض کیااور بیس سال سفر و حضر میں ان کے ساتھ رہے۔ آپ اپنے شیخ کا بے حد احترام کیا کرتے حتی کہ ان کا سامان بھی خود اٹھاتے۔ آخرکار حضرت عثمان ہارونی نے آپ کو خلعت خلافت سے نوازا۔

(اخبار الاخیار از شیخ عبد الحق محدث دہلوی صفحہ55)

تصنیف انیس الارواح

اس کے بعد حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒنے 28 روز تک حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کے پاس حاضر ہوکر ایک مجموعہ تیار کیا جوانیس الارواح کے نام سے موسوم ہے۔

سفر بغداد اور سید عبد القادر جیلانیؒ سے ملاقات

خرقۂ خلافت کے حصول کے بعد آپ پہلے اپنے قصبہ سنجر تشریف لے گئے پھر اڑھائی ماہ بعد قصبہ جیلان چلے گئے وہاں حضرت محی الدین سید عبدالقادر جیلانیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قریباً پانچ ماہ ان کی صحبت میں رہ کر ان سے استفادہ کیا۔

(معین الارواح ترجمہ مونس الارواح از شاہزادی جہاں آراء بیگم صفحہ 7)

پھر بغداد جاکرشیخ شہاب الدین سہروردی کے استاد شیخ ضیاء الدین ابو لنجیب سہروردی سے بھی ملے۔

محمد یادگار کی انقلابی حالت

بغداد سے خواجہ صاحب ہمدان اورپھر تبریزگئے۔وہاں کے اولیاء و اصفیاء سے فیض اٹھاتے رہے۔ آپ عزلت نشینی کو ترجیح دیتے تھے اور ہجوم سے کنارہ کش رہتے،بہت کم کھاتے۔آپ ایک جگہ بہت کم مدت قیام فرماتے۔ اس کے بعد آپ استرآباد پھر ہرات چلے گئے۔جب ہرات میں بھی مشہور ہوگئے اور لوگوں کا تانتا بندھنا شروع ہوگیا توآپ سبزوارچلے گئے تو وہاں کا حاکم محمد یادگاربہت شقی القلب ،بددیانت اور ظالم شخص تھا۔ آپ کے ورود مسعود کی خبر پاکر بہت برافروختہ ہوا۔آپ ایک روز اس کے باغ میں چلے گئے اور وہاں اس سے سامنا ہوگیا۔ جیسے ہی اس کی نظر آپ کے چہرہ مبارک پر پڑی توآپ کے رعب کی وجہ سے اس پربے اختیار لرزہ طاری ہوگیا اور بیہوش ہوگیا۔جب ہوش میں آیا تو معافی مانگنے لگا اور توبہ کی۔پھر خواجہ صاحب کی تلقین و تحریک سے آپ کی بیعت کر لی اور اہل و عیال سے ترک تعلق کر لیا اور اکتساب فیض کیاپھر خواجہ صاحب کے حکم پر حصارر شادمان جاکر تدریس کا کام کے لیے خود کو وقف کر دیا اور وہیں وفات پائی۔

(معین الاولیاء فارسی صفحہ 4)

حج کی ادائیگی

بالآخر خواجہ صاحب مکہ معظمہ پہنچے اور مناسک حج بجالائے۔ پھر زیارت روضۃ النبیؐ کے لیے مدینہ منورہ چلے گئے اور ایک مدت تک مدینہ منورہ میں رہے۔ وہیں خواب میں رسول اللہؐ کی زیارت نصیب ہوئی۔رسول اللہؐ نے فرمایا:

’’اے معین الدین! تو ہمارے دین کا معین ہے۔ ہندوستان کی ولایت تیرے حوالے ہوئی۔ وہاں جاکر اجمیر میں اقامت کر۔ اس سرزمین میں کفر کا بہت غلبہ ہے ۔تیرے جانے سے اسلام کا غلبہ ہوگا۔‘‘

اس خواب کی بناء پر آپ نے مدینہ منورہ سے دعوتِ دین کے لیے ہندوستان کے شہر اجمیر جانے کا قصد کیا۔

(معین الارواح ترجمہ مونس الارواح از شاہزادی جہاں آراء بیگم صفحہ 7)

خواجہ صاحب نے اپنی زندگی میں متعدد حج کیے۔اجمیر میں قیام کے بعد بھی مکہ مکرمہ میں حج کے لیے جایا کرتے تھے۔

مدینہ سے اجمیر تک

پس خواجہ صاحب بلخ گئے۔ بلخ سے لاہور کا رخ کیا اور وہاں حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر بھی حاضر ہوئے۔ پھر وہاں سے ملتان چلے گئے اور ہندوستان کی زبان میں مہارت حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی چلے گئے۔ دہلی میں اپنے مرید حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ کودعوت دین کی ذمہ داری سونپی اور باوجود اس کے کہ لاہور اور دہلی میں آپ کے بہت سے معاون و مددگار تھے،آپ نے اپنا مرکز اجمیر چنا۔

دانشمندانہ فیصلہ

خواجہ صاحب کے زمانہ میں برصغیر طوائف الملوکی کی حالت میں تھا۔ ہندوراجاؤوں نے اپنی الگ الگ ریاست بنائی ہوئی تھی۔ مسلمان انتشارو پسماندگی کا شکار اوردین و دنیا سے بے خبر تھے۔ ہندوستان بت پرستی کی آماجگاہ تھا۔ ان حالات میں دعوتِ دین کی اشاعت کے لیے اجمیر کا انتخاب آپ کے صائب الرائے ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ اجمیرسے تمام برصغیر سے رابطہ رکھناآسان تھا۔

اجمیر میں ورود مسعود

خواجہ صاحب اجمیر میں داخل ہوئے تو ایک درخت کے سائے میں قیام کرنا چاہا تو ایک شخص نے آپ کو وہاں سے اٹھا دیا کہ یہ جگہ مختص ہے۔ پھر آپ ایک تالاب ’’آنا ساگر‘‘ نامی کے کنارے فروکش ہوئے۔ اس وقت بہت سے بت خانے اس ساگر کے کنارے موجود تھے اوران پر بہت سے چڑھاوے چڑھتے تھے۔ گھنٹیوں کاشور صبح و شام سنائی دیتا تھا۔ مذہبی تعصب کی بناء پر برہمنوں نے خواجہ صاحب کو تالاب سے غسل و وضو کرنے سے منع کر دیا۔ خواجہ صاحب نے اپنے خادم کو تالاب سے ایک چھاگل میں پانی لانے کو کہا۔ جب خادم نے پانی بھرا تو تالاب کا تمام پانی خشک ہوگیابلکہ دیگر ندی نالوں سے بھی پانی معدوم ہوگیا۔ جس سے تمام انسان و حیوان متاثر ہوئے۔ یہ دیکھ کر شہر کے بااثر سرکردہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معافی مانگی۔ان میں سے ایک بااثر نے اسلام بھی قبول کیا۔

(معین الارواح ترجمہ مونس الارواح صفحہ 8)

حاکم اجمیر رائے پتھورا کو اسلام کی دعوت اور آپؒ کی مخالفت

حاکم اجمیرپرتھوی راج چوہان جو رائے پتھورا کے نام سے مشہور تھااس کی والدہ علم نجوم کی ماہر تھی۔اس نے خواجہ صاحب کی اجمیر میں آمد سے بارہ سال قبل اپنے بیٹے پتھورا حاکم اجمیر کو بتایا کہ فلاں حلیہ کا مرد حق تمہاری حکومت کی بربادی کا باعث بنے گا۔رائے پتھورا نے وہ حلیہ لکھ کر جگہ جگہ بھیجاکہ جہاں بھی ملے اسےگرفتار کر لانامگراللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا۔لیکن جب تالاب والا واقعہ رونما ہوا تو اس کی خبر پتھورا اور اس کی ماں تک پہنچ گئی اور ماں جان گئی کہ یہ وہی شخص ہے۔ اس نے اپنے بیٹے حاکم اجمیر کو کہا کہ اس شخص سے مت الجھنا بلکہ اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا۔

غرضیکہ رائے پتھورا کو خواجہ صاحب کی آمد ایک آنکھ نہ بھائی۔اس نے ایک جادوگر کو بھی آپ کے مقابلہ کے لیے بھجوایا لیکن وہ جادوگر سخت ناکام و نامراد رہا اورکمالات سے متاثر ہوکر مسلمان ہوگیا۔رائے پتھورا نے اور بھی بہت سے ہتھکنڈے آزمائے اور سازشیں کیں لیکن وہ ہر قدم پر ناکام رہا۔ رعب کی وجہ سے آپ کو تو نقصان نہ پہنچا سکا لیکن آپ کے مریدوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتا۔

آپؒ نے رائے پتھورا کو اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے اسے قبول نہ کیا۔ایک روایت کے مطابق آپ کے کسی مرید کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو آپ نے پرتھوی راج رائے پتھوراکے پاس اس مرید کی سفارش کی ۔جس پر پرتھوی راج نے بہت نازیبا الفاظ استعمال کیے اورکہا کہ وہ آپؒ کو اجمیر سے نکلوادے گا۔جب آپ کو اس بات کی اطلاع پہنچی تو آپؒ نے فرمایا کہ ہم نے پتھورا کو زندہ گرفتار کرکے مسلمانوں کو دے دیا۔پس آپ کی پیشگوئی پوری ہوئی اور 588ھ میں شہاب الدین غوری نے دوبارہ حملہ کیا اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور پرتھوی راج المعروف رائے پتھورا گرفتار ہو کر مارا گیا۔

( معین الارواح ترجمہ مونس الارواح صفحہ 11)

سلطان شمس الدین التمش کے متعلق پیشگوئی

ایک روز خواجہ معین الدین چشتی شیخ اوحد الدین کرمانی اور شیخ شہاب الدین سہروردی کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اچانک وہاں شمس الدین التمش اپنی صغرسنی میں تیر کمان ہاتھ میں لیے وہاں سے گزرے تو خواجہ صاحب کی نظر ان پر پڑی تو فرمایا کہ یہ بچہ دہلی کابادشاہ ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

(معین الارواح ترجمہ مونس الارواح صفحہ 20)

شادیاں اور اولاد

آپ نے دو شادیاں کیں۔پہلی شادی اجمیر کے داروغہ سید وجیہہ الدین محمد مشہدی کی بیٹی بی بی عصمت سے ہوئی۔ اس کا واقعہ یوں ہے کہ سیّد صاحب موصوف اپنی بیٹی کا نکاح کسی بزرگ زادے سے کرنا چاہتے تھے مگر انہیں کوئی بھی اپنی بیٹی کے لائق نہیں مل رہا تھا۔ اسی فکر میں تھے کہ ایک رات حضرت امام جعفر صادقؒ سید صاحب کی خواب میں آئے اور فرمایا کہ ’’اے فرزند جگر پیوند حضرت نبوت پناہﷺ کا ایما اس طرح پر ہے کہ تو اس دختر نیک اختر کو ہمارے نور نظر معین الدین حسن سنجری کے عقد نکاح میں لائے۔‘‘

سید وجیہہ الدین نے یہ واقعہ خواجۂ دین پر ظاہر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگرچہ میری عمر آخر ہوئی ہے مگر جبکہ حضرت سید امام علیہ و آلہ الصلوة والسلام کا یہی اشارہ ہے ،میں انکار نہیں کرسکتا۔ چنانچہ آپ اس نکاح کے بعد سات سال تک زندہ رہے۔

(معین الاولیاءفارسی از سید امام الدین صفحہ 42)

دوسری شادی بی بی ا مة اللہ سے ہوئی ۔جس کا واقعہ یوں درج ہے کہ
’’خواجہ صاحب نے ایک شب حضرت سرور عالمﷺ کو خواب میں دیکھا کہ فرمایا کہ اے نور نظر! تو نے ہماری سنتوں سے ایک سنت ترک کی ہے۔ اتفاقاً حاکم قلعہ بٹہلی ملک خطاب نے ایک راجہ کی قیدی بیٹی آپ کی خدمت میں پیش کی تو آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی ۔قبول اسلام کے بعد اس کا نام امة اللہ رکھا۔ اور اس سے آپ نے نکاح کیا۔

ان دونوں بیویوں سے آپ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئے۔ تین بیٹوں کے نام شیخ ابوسعید، شیخ فخر الدین اور شیخ حسام الدین ہیں۔جن کے بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ تینوں بی بی عصمت سے ہی تھے یا صرف شیخ ابو سعیدبی بی عصمت سے اور شیخ فخر الدین اور شیخ حسام الدین ا مة اللہ سے اور بیٹی کانام بی بی حافظ جمال تھا جو ا مة اللہ کے بطن سے پیدا ہوئیں۔

(معین الارواح ترجمہ مونس الارواح از شاہزادی جہاں آراء بیگم صفحہ25)

وفات

آپ کی وفات بروز دو شنبہ 6 رجب 633ھ کو 97 برس کی عمر میں ہوئی۔ مشہور ہے کہ خواجہ اجمیری ؒ کی وفات کے بعد آپ کی پیشانی پر یہ نقش ظاہر ہوا کہ ’’ھذا حبیب اللّٰہ مات فی حب اللّٰہ‘‘ (یعنی اللہ کا حبیب اللہ کی محبت میں دنیا سے گیا)۔

(اخبار الاخیار اردو از مولوی عبد الحق محدث دہلوی صفحہ60)

آپ اجمیر میں ہی اپنی اقامت گاہ میں دفن ہوئے۔

اخلاق فاضلہ

آپ بہت سے اخلاق فاضلہ سے متصف تھے۔ آپ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ ہر وقت باوضو رہتے۔ روزانہ نوافل ادا کرتے۔ اور درود شریف کا وردفرماتے رہتے۔ اور اکثر یہ شعر پڑھاکرتے:

خوبرویاں چوپردہ برگیرند
عاشقاں پیش شاں چنیں میرند

اور یہ مصرع اکثر زبان پر ہوتا:

صحبت نیکاں بہ از طاعت بود

تصنیفات

آپ نے متعدد تصنیفات و رسائل تحریر فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں: انیس ‌الارواح (ملفوظات خواجہ عثمان ہاروَنی)، گنج اسرار، دلیل‌العارفین، بحرالحقائق، ملفوظات‌خواجہ معین‌الدین چشتی، اسرارالواصلین (8خطوط) مکتوبات، رسالہ وجودیہ، کلمات خواجہ معین‌الدین چشتی، دیوان مُعین الدين چشتی وغیرہ

آپ کے دیوان کا ایک فارسی شعر یہ ہے:

دم بدم روح القدس اندر معینی می دمد من
نمی دانم مگر عیسیٰ ثانی شدم

ترجمہ: ہر دم روح القدس کو معین کے اندر پھونکا جارہا ہے، مجھے تو علم نہیں کہ یہ کیوں ہے مگر میں عیسی ثانی ہو گیا ہوں۔

(دیوانِ خواجہ معین الدین چشتی غریب نوازصفحہ260)