دنیا وی شر سے بچاؤ کے اسباب

قارئین ِ کرام: ہماری کوشش ہے کہ ایک ایک بات کو آسان لفظوں میں کھُل کر بیان کر دیا جائے، اس سلسلے میں مستند  کتابوں کی چھان پٹک ہرگز بھی کوئی آسان کام نہ تھا، ایک ایک مرحلے پر ہمیں ایسے ایسے تجربات کا سامنا رہا کہ دل کرتا تھا اب اس کے آگے لکھنا کس طرح ممکن ہوگا، مگر آفرین ہے اُن علماء اور اکابرین اور صوفیا کرام پر جنھوں نے علم کے حصول کے لئے اپنی حیات وقف کی اور ہم جیسے علم کے متلاشی لوگوں کے لئے علم ایک سمندر اپنی کتب میں چھوڑ گئے۔ ہر چند کہ ہماری کوشش ہے کہ عوام الناس کو اس حد تک آگہی فراہم کر دی جائے کہ وہ جن، جادو، بندش  جیسے تمام مسائل کا حل خود بروئے کار لا سکیں ، جبکہ اس سلسلے میں خاص اعمال کی خاص اجازتوں کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے روحانیت کے متلاشی افراد کے لئے روحانی کورسز  بھی تشکیل کر دئے ہیں۔ اب اللہ جس کو علم کے حصول کی توفیق عطا فرمائے یہ سب اس کے لئے ہی ہے۔

اکثر انسانوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان وسائل کو اختیار کریں جن کے ذریعے وہ دنیا کے مصائب و حوادث سے بچ جائیں اور ان کی زندگی بیماریوں اور ناگہانی آفتوں ، جیسے  گر کر مرنے، جل جانے، اور غرق ہو جانے سے بچ جائے۔ تو حفاظت کے لئے احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے میں شرعاً و عقلاً کوئی چیز مانع نہیں اور ایک مقولہ بھی ہے : ” الوقایہ خیر من العلاج” کہ پرہیز علاج سے بیتر ہے۔ بلکہ شریعت اسلامیہ نے ضروریات خمسہ ، یعنی جان ، مال، عزت، دین اور عقل وغیرہ کی حفاظت  پر بہت زور دیا ہے۔ لیکن انسانوں کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ وہ تحفظ کے مادی طریقوں پر تو بہت اعتماد کرتے ہیں لیکن انھوں نے روزِ جزا کے عظیم خطرے سے بچاؤ کے راستوں کو فراموش کر دیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

((فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا))

(المزمل-17)

پس اگر تم نے بھی انکار کیا تو اس دن سے کس طرح بچو گے جس کی سختی کا یہ عالم ہے کہ وہ بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔

بس مسلمان پر واجب ہے کہ وہ روز جزا کی سختیوں سے بچنے کے اسباب کو اپنائے اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی کتاب پر استقامت کے ساتھ کار بند رہنا اور صالح عمل بجا لانا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ

تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

(الصف: 10-11)

 پس  اے ایمان والو ! کیا میں تم کو ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تم کو (آخرت کے) درد ناک عذاب سے بچا لے؟ (سنو وہ یہ ہے کہ) اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرو اگر تم کو علم ہو تو یہ بات تمھارے لئے بڑی مفید ہے۔

اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ

(حمً السجدہ: 30)

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ (اس عقیدہ پر) جمے رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں اور (کہتے ہیں) کہ تم مت ڈرو اور مت غم کھاؤ اور اس بہشت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

اور سورۃ نحل میں فرمایا

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

(النحل : 97)

جو نیک کام کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مومن ہو، اسے ہم پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور انھیں ان کے اعمال کا بہترین صلہ دیں گے۔

اور جب ایک مسلمان روز حساب کے مصائب سے بچاؤ کے اسباب کو بروئے کار لائے گا تو پھر دنیا کے شر سے بچاؤ کے اسباب و وسائل کو اختیار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، کیونکہ دنیاوی مشکلات و مصائب کی وجہ بھی تو انسان کے اپنے سیاہ کرتوت اور گناہ ہی تو ہیں۔ الغرض نافرمانی اور گناہ ہی دنیا و آخرت میں انسان کے لئے فتنہ و شر اور ابتلا و آزمائش کا سبب ہوتے ہیں۔

دنیا وی شر سے بچاؤ کے اسباب دو اقسام پر مشتمل ہیں

مادی اسباب
 الٰہی اسباب

ہماری بحث دوسری قسم سے متعلق ہے، بلاشبہ یہ اسباب اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ نفع بخش ہوتے ہیں۔ پس سنت مطہرہ میں تمام تکالیف کا علاج موجود ہے لیکن انسان اس سے غافل ہے، اگر مسلمان شرعی اور مسنون دعاؤں اور اذکار پر توجہ دے اور اپنے اہل خانہ اور ماتحتوں کو اس کی تعلیم دے تو وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر قسم کے شر اور پریشانی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ہر عمل جو سنت سے ثابت ہے وہ متعلقہ مرض کے لئے یقینی طور پر نفع بخش ہے حتٰی کہ اگر اس کو استعمال کرنے والا کوئی فائدہ نہ پائے تو تب بھی اس کے نفع بخش ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ فائدہ نہ پہنچنے کا سبب مریض یا معالج کا اپنا کوئی فعل اور عدم یقین ہوگا جبکہ رب العالمین اور رسولِ کریم رحمتہ اللعالمین سیدنا محمد مصطفےٰ ﷺ نے جو اپنے ایک صحابی سے فرمایا جس کے بھائی کا پیٹ شہد استعمال کرنے کے باوجود ٹھیک نہ ہوا:

((صدق اللہ و کذب بطن اخیک))
(الجواب الکافی ص ۴۶)

اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا  اور تیرے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ بولا۔”

ہمارے اپنے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اکثر مصیبت زدہ لوگ خود ہی ان مسنون دعاؤں اور شرعی اذکار کو پڑھنے میں تساہل اور سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو اللہ کے حکم کے ساتھ ہر ظاہری اور پوشیدہ شر سے بچاؤ کے لئے مضبوط قلعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔