روحانیت اور علم؟

روحانیت وہ نہیں جو لکھ دی جائے روحانیت وہ ہے جو دل میں آئے اور انسان خود کو سمجھنے لگے اور اپنے خالق کو پہچاننے لگے۔
روحانیت یعنی روح سے متعلق علم ، جیسے خواب، ذکر، لطائف کا کھلنا، تیسری آنکھ ، معرفت وغیرہ۔
یہ وہ علوم ہیں جن میں جسم کی نفی ہے اور روح کو کیا جاتا ہے۔

انسان کا جسم صرف جسم ہی نہیں بلکہ عالمین کا مجموعہ ہے۔ جسم کا ہر ایک حصہ کسی ایک یا متعدد روحانی اسرار سے وابستہ ہے۔
ہم زندگی میں جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ سب اپنے اپنے حصوں میں ایک روحانی عمل رکھتے ہیں۔ انسان کا ہر ایک عضو ایک خاص عنصر اور خاصیت کا حامل ہے۔ جو ان باتوں کو سمجھ لے وہ کسی بھی انسان کو دیکھ کر سمجھ جاتا ہے کہ اس کا کس بنیاد پر بنا ہے اور وہ حقیقاً کیسا ہوگا۔
شائید یہ بالکل اس ہی طرح ہے جیسے کچھ لوگوں کے ناموں میں آتشی عنصر زیادہ ہو تو مخالف عنصر والوں سے ان کی نہیں بنتی۔

دنیا کے کسی بھی علم کو سیکھنے سے لیکر۔ ۔ ۔ جاننے اور بروئے کار لانے میں اصل کردار روحانیت کا ہے۔ اگر آپ میں یہ روحانی خاصیت نہیں تو آپ دنیاوی و روحانی کسی بھی علم پر ازبر نہیں ہو سکتے۔