روحانی علم

اکثر کتب اور عاملین نے روحانیت کو عملیات سے منسوب کیا، جبکہ عملیات کا روحانیت سے دور دورتک کوئی تعلق کبھی نہیں تھا۔ اس بات کو مزید وضاحت سے اسطرح سمجھنا چاہئے کہ روحانی علم وہ ہے جو تصوف کی راہ پر چل کر ایک سالک کو حاصل ہوتا ہے اور اِس ہی کو صوفیائے کرام نے علمِ لَدُنِی کہا ہے۔ 

جبکہ عملیات یعنی زیادہ تر حسابی اور سائنسی علم ہے۔ علمِ لَدُنِی کے تحت جو روحانیت میسر ہو وہ احاطہ تحریر سے باہر ہے اور ایسا شخص کامل ہے، جبکہ عملیات میں ازبر ہونے کے لئے عامل ہونا پڑتا ہے۔ بہت کم ہی لوگ ایسے ہیں جو کامل تھے اور کچھ اعمال میں عامل بھی رہے۔ تاہم عامل ہونے سے زیادہ ضرورت کامل ہونے کی ہے جس کی طرف ہماری توجہ دلائی نہیں گئی۔

اس کی وجہ یہ بھی رہی کہ عاملین نے جو کتب اور اعمال جمع کئے ان کی تشہیر کر کے اپنا سکہ منوانا بھی لازم تھا اور اس تربیت میں دوسروں کو عامل بنانا بھی مقصود تھا، جبکہ کامل ہونے کے لئے شریعت کی پابندی اور اللہ کی واحدانیت پر جو انسان کامل یقین رکھے بھلا وہ حب و بغض کے اعمال کیونکر کرنے لگا، وہ تو سارا معاملہ ہی اپنے رب پر چھوڑنے کا عادی ہے وہ تو اپنے ہر عمل کو دائرہ شریعت میں طے کر کے اپنے رب کو راضی کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے ذکر اللہ ہی سب کچھ ہے، پھر یہ الواح، تعویذ اور چلہ کشی اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔

یہ بھی ایک عجیب بات دیکھنے میں آئی کہ تمام چالوں اور حسابی جمع تقسیم کے بعد بنائے گئے عامل کے تعویز کم ہی کار آمد ثابت ہوئے جبکہ کامل نے صرف ایک دعا کر دی تو معاملات بن گئے، واضح ہوا کہ روحانیت چلوں اور تعویزوں میں نہیں بلکہ اس ہاتھ میں ہے جو ایک کامل کا ہاتھ ہے اُس زبان میں ہے جو ایک ذاکر کی زبان ہے، اُس قلب میں ہے جس میں حق تعالیٰ کی یاد ہر ساعت موجود ہے۔ جو اس کامل یقین سے کلمات لکھتا اور ورد کرتا ہے کہ اگر رب راضی ہوگا تو کام ہو جائے گا، ورنہ استعمال میں لانے والا یا سائل خود ہدایت پا جائے گا۔ وہاں ہدایت بھی آتی ہے اور زندگی میں نور بھی شامل ہوتا ہے۔

ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ ہم سب کو نیک ہدایت دے 

آمین یا رب العالمین