روحانی قوت اور ارتقاء

ہمارے نزدیک ہر وہ علم جو  سے تعلق رکھتا ہو وہ علومِ مخفیہ کی زمرے میں آتا ہے، اب آپ اُسکو روحانیت کہہ لیں، مخفی علمِ سمجھ لیں، یا ماؤرائی علم کا گمان کر لیں،ہر وہ علم سائنس کے زمرے میں آتا ہے جو فکر کو تخیل اور ذہنکو یقین کا حسن دیدے، تو ہمارے ذہن کی وضاحتیں اسے حقیقت کا روپ دینے کی کوشش میںسرگرداں ہو جاتی ہیں۔ سائنس دراصل ان مادی اور غیر مادی اشیاء کی جانب اشارہ کرتیہے جس کے متعلق یقین کرنا ممکن نہ ہو۔  یہانسان جو دنیا کو تسخیر کرنے کے خواب آنکھوں میں سجائے جہدِ سفر ہے۔ اگر یہ اپنےاندر کی مخفی قوت کو تسخیر کر لے تو دنیا کی تمام رنگینیاں پھیکی و ہیچ محسوس ہونےلگیں ، کیونکہ  اس قوت کے حصول کے لئےسائنسی آلات کی ضرور نہیں بلکہ یہ قوت تو انسان کے اپنے وجود کے اندر ہے۔روحانی قوت  اورروحانی علوم کا سر چشمہ تو انسان کی اپنی ذات ہے۔ اپنے وجود  کی مقناطیسیت ہوتی ہے ۔ انسان کو یقین کرناچاہئے کہ اُس کا وجود صرف گوشت پوست کی عمارت نہیں بلکہ وہ اپنے اندر بے شماراسرار سمیٹے ہوئے ہے۔ 

اکثر ماؤرائی علوم اُن علوم کو کہا جاتا ہے جو جنات و مخلوقات یا نہ نظر آنے والی تحقیقات پر مبنی ہوں، مگر اگر ہم علومِ مخفیہ کو دیکھیں، تو کیا علم الحروف ، علم الجفر، اور تعویزات و الواح و عملیات اُن تمام نوری و سفلی مخلوقات سے الگ ہیں؟
کہتے ہیں حرف الف سے 1000 مؤکلان منسوب ہیں، اس ہی طرح فرشتے اور جنات بھی۔

ہم نے جو دیکھا وہ یہ ہی تھا کہ ہر علم کا واسطہ کسی نہ کسی طور پر روح سے جڑا ہوا ہے، آپ کسی بھی علم کو تب تک نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ مکمل یکسوئی سے اُس پر عمل نہ کریں۔ اگر ہم ایک اسم کا استخراج بھی کرنے بیٹھیں تو اُس میں تمام خیالات سے پرے ہو کر سوچ کی لہروں کو کسی ایک مقام پر لانا ضروری ہوتا ہے، دنیا کے سارے ایسے علوم ہماری نظر میں علومِ مخفیہ ہی ہیں، کیونکہ یہ مراقبات، آسن، سانس کی مشقیں در حقیقت یکسوئی  اور ارتکاز کے واسطے ہی تو ہیں،   شعوری طور پر لا شعور سے ہوتے ہوئے تحت الشعور کی منازل طے کرنے کا نام ہی روحانی ارتقاء ہے۔لیکن اب ماؤرائی علوم کو موجودہ دور میں  سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ یہ سب صدیوں سے ہو رہا تھا۔روحانی قوت کے حصول کے لئے کامل یکسوئی کا ہونا اشد ضروری اور اور کامل یکسوئی حاصل کرنے کے لئے صبر و تحمل کا ہونا بھی ضروری ہے۔

روحانیت ہر کسی میں موجود ہوتی ہے مگر اُس کا حصول روحانیت حاصل کرنے والے کی فطرت کے مطابق ممکن ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ ایک ہی ورد، یا مراقبہ، یا آسن، یا ارتکاز کی مشق سب کے لئے یکساں مفید ہو۔ استاد ہی اس بات کو سمجھ کر طالبِ علم کی ذہنی و روحانی نشو و نما کے لحاظ سے اسباق مرتب کرتا ہے۔

سیکھتا وہی ہے جو کامل یقین اور جنون سے اس راستے پر چلنا چاہے اور جس کے قلب میں حسد و بغض کا اور طمع کا لالچ نہ ہو۔ہمارے تمام علومِ مخفیہ و روحانیت پر مبنی کورسز سالہا سال کی محنت کے بعد ترتیب دئے گئے ہیں۔  اور ہم نے یہ تمام علوم مستند اساتذہ جن میں کاملین و صوفیاء کرام بھی شامل ہیں  طویل محنت و مشقت کے بعد حاصل کئے اور اب روحانیت کے متلاشی خواتین و حضرات کے لئے ایک راستہ ہموار کر دیا ہے۔ ہم نے اپنا کام کر دیا۔

اب اللہ جس کو چاہے گا ، یہاں لائے گا، اور علم سے نوازے گا۔
یہ سب اللہ کی عطاء سے ہی حاصل ہوتا ہے۔