ریکی کیا ہے؟

انسان ازل سے ہی تجسس میں مبتلا رہا ہے۔ اس کی کوشش رہی ہے کہ وہ ایسے راز جان سکے جن کے باعث اس کی زندگی مشکلات سے دوچار نہ ہو۔ میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ پہلے کا زمانہ اتنا مشکل نہ تھا۔ لیکن میری اپنی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ زمانے آج بھی وہیں ہیں بس لوگوں کا نظریہ بدل گیا ہے۔ ہر زمانہ اپنے ساتھ کچھ اچھائیاں اور برائیاں لیئے ہوئے ہے۔ ہر دور کا انسان اپنے زمانے کے سرد و گرم سے ہی حالات کا مقابلہ کرنا سیکھتا ہے۔ لیکن ہماری مشکلات کی ایک بڑی وجہ ہماری کم علمی رہی۔ میرا ایسا ماننا ہے دولت علم کی ہو یا پیسے کی ، اس کی تقسیم اضافے کا سبب بنتی ہے۔ معاشرے میں علم کا تدارک اس وقت عمل میں آتا ہے جب ہم اس کو کسی خاص طبقے کے لئے مخصوص کر دیتے ہیں۔ تا کہ صرف وہی جان سکیں اور دوسرا نہیں۔ اسطرح علم غلط ہاتھوں میں بھی چلا جاتا ہے اور ایک غلط انسان سیکڑوں کو گمراہ کرنے کے لیئے کافی ہوتا ہے۔

میری زندگی کا دارومدار روحانیت پر رہا ہے۔ جو میں نے سیکھا یا سیکھ رہا ہوں وہ بیان سے باہر ہے۔ عرصہ دراز سے ریکی ہیلینگ کا بڑا چرچہ ہے۔ جس کو سیکھ کر دوسروں کی زندگی بدل دینے کے دعوے بھی کئے جاتے ہیں۔ جس کو سیکھ کر دوسروں کا علاج بھی کرنے کا کہا جاتا ہے۔ ریکی کو جاننے والے اس کام کا خاصہ معاوضہ بھی لیتے ہیں۔ پریشان حال لوگ صرف زندگی کو بدلنے کا سوچ کر اس راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں اور بھاری فیس دے کر ریکی سیکھتے ہیں۔ اور خود کو ہیلر کے نام سے منسوب کر دیتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اب وہ ایک ایسے راز سے واقف ہو گئے ہیں جو لوگوں کی زندگی بدلنے کے ساتھ بہت سارا پیسہ بھی لیکر آئے گا۔ چند ایک لوگوں نے ریکی کو سیکھ کر اس کو کاروبار بنا رکھا ہے۔ کم عقل لوگ کیوں کہ ریسرچ ورک نہیں کرتے اس لئے ان کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔ پیسہ الگ برباد ہوتا ہے اور محنت سے کچھ وصول نہیں ہوتا بلکہ مزید پریشانیاں زندگی میں جنم لیتی دکھائی دیتی ہیں۔

میری کوشش ہو گی کہ میں ہر پہلو کو الگ انداز میں بیان کروں اور یہ سمجھا سکوں کہ ریکی در اصل ہے کیا اور کہاں اور کیسے اس کا استعمال قابل عمل بنایا جا سکتا ہے۔

ان تمام دوستوں کا شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے مجھ کو ہمت ملی اور یہ سلسلہ شروع کر سکا۔

ریکی کیا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ کائنات میں موجود فطری شفائی طاقت کو ریکی کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں کسی جادو کا عمل دخل نہیں اور نہ ہی ریکی کے لئے ضمیر کی کوئی تبدیل شدہ حالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا واضع مطلب یہ ہوا کہ ریکی کسی ایک مخصوص قوم، نسل یا مذہب کے لوگوں کے لئے نہیں۔ جسطرح سورج کا کائنات میں ہونا اس کائنات میں تمام رہنے والوں کو زندگی بخشتا ہے اس ہی طرح کائنات میں موجود دوسری فطری شفائی طاقتیں بھی ہم سب کے لئے ہیں۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہےکہ ریکی صرف ایک طریقہ کار، اسلوب یا کاروائی کا نام نہیں۔ بلکہ ریکی تو موجود ہے۔ یعنی کہ پہلے سے موجود ایک شفائی طاقت کا نام کسی جاپانی نے اپنی زبان میں ریکی دے دیا ہے۔ جس کو لوگوں نے آج ایک پراڈکٹ بنا لیا ہے۔ ورنہ اگر میں اس فطری طاقت کی کھوج میں نکلتا تو اس کو اپنی زبان میں کوئی  اردو کانام دیتا۔ جو چیز پہلے سے موجود ہے وہ سب کے لئے ہے۔ کسی ایک کے جاننے کا مقصد یہ نہیں کہ اس کو تخلیق کیا گیا۔ خالق ایک ہے اور اس نے سب کچھ تخلیق کر رکھا ہے ۔ عقل و دانش کے لحاظ سے ریکی پڑھائی نہیں جا سکتی ۔ ریکی سکھانے والا شاگرد کو مختصر وقفے کی ایک کلاس میں اس کے متعلق بتاتا ہے اور ان اصولوں پر کاربند رہنے کی ہدایت کرتا ہے جن کو اپناتے ہوئے ریکی حاصل کر کے استعمال میں لائی جائے۔ شفائی طاقت کا مطلب ہم انرجی سے لیتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد جو کچھ بھی موجود ہے وہ ایک انرجی ہی ہے۔ تمام مخلوقات کا دارومدار کسی نہ کسی اچھی یا بری انرجی پر ہے۔

انسان اپنی زندگی میں مختلف قسم کی انرجیز کے زیر اثر رہتا ہے۔ اس کے احساسات و جذبات ان انرجیز کو وقت کے ساتھ ابھار کر ان کے خروج کا باعث بنتے ہیں۔ جیسے حسد و جلن کے موقع پر کسی کو دیکھنا اور اور اس شخص کو نظر لگ جانا بھی ایک انر جی ہے جو کہ بری انرجی ہے۔ کسی کو دیکھ کر پسند کرنا اور اپنی طرف راغب کرنا بھی ایک انرجی ہے جس کو ہم اچھی انرجی خیال کریں گے۔ یہ انرجی سسٹم تمھاری زبان کی طرح ہے۔ اچھا بولو گے تو اچھا سنائی دے گا، برا بولو گے تو برا۔ جب کے اس کے علاوہ دوسری انرجیز بھی کائنات میں گردش کرتی نظر اتی ہیں جن میں جنات، خبیث ارواح ، شیاطین جیسی قوتیں بھی کسی نہ کسی انرجی کے تابع ہیں۔ لیکن ظاہر ہے وہ انرجیز شفائی نہیں نہ ہی ان پر بات کرنا اس مضمون کا حصہ ہے۔

ریکی سے جسم کے مخصوص مراکز (چکراز) کھل جاتے ہیں۔ اسطرح انرجی کو آسانی سے اور مخصوص طریقے سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ ریکی ہر وقت موجود ہوتی ہے لیکن ہم اس سے اس وقت تک آگاہی حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تربیت کے ذریعے ریکی سے ہمارا رابطہ نہ ہو جائے۔ تربیت کے بعد ریکی وصول کی جا سکتی ہے اور اس کو مخصوص طریقے سے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

ریکی کا بہاؤ جب ہاتھوں میں محسوس ہوتا ہے تو اس کا احساس زیادہ تر تپش کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس طرح جیسے کہ تھر تھراہٹ کا احساس۔ ایسا اس لئے ہے کیوں کہ ہر شخص کی شخصیت الگ الگ ہوتی ہے اور ضروری نہیں کہ ہر انسان کے جسم کا انرجی لیول ایک جیسا ہو۔ اس ہی لیئے ہر شخص کے انفرادی تجربات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس موقع پر انرجی کے استعمال کی ہدایات بھی دی جاتی ہیں۔ اپنے ذاتی اور دوسرے لوگوں کے علاج کے لئے ہاتھوں کی مخصوص حالت کے متعلق بھی بتایا جاتا ہے۔ اور ہاتھوں کی مخصوص حالت شفا بخشی کے لئے بنائی جاتی ہے۔

ایک ریکی ماسٹر یہ انرجی خود پیدا نہیں کرتا بلکہ وہ تو اس انرجی کے بہاؤ کو ایک مخصوص سمت دے دیتا ہے۔ اس کردار کو قبول کرتے ہوئے اس کا نتائج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ ریکی بے ضرر ہے اور یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن میری رائے اس سے مختلف ہے ریکی کب اور کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے اس پر ہم پھر کبھی بات کریں گے۔

کہتے ہیں  کہ ریکی زندگی کی تمام حالتوں میں بہتری پیدا کرتی ہے جیسے، پودوں ،پرندوں ، جانوروں ، مچھلیوں اور انسانوں میں بچپن سے لیکر بڑھاپے تک مفید سمجھی جاتی ہے۔
ریکی کے عموماً تین لیولز سامنے آتے ہیں اور مزید ایک لیول اس میں ماسٹر ٹیچر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ تیسرے درجے کی تربیت کے ساتھ معالج کو مریض کو چھونے کی ضرورت بھی نہیں رہتی وہ انرجی کو فاصلے پر کسی بھی جگہ بھیج سکتا ہے۔ شفا یابی کے لئے مریض کے حالات بعض اوقات طویل علاج کا تقاضہ کرتے ہیں کیوں کہ مرض کی علامات طویل عرصے سے موجود ہوتی ہیں۔ اس لئے جسم کو دوبارہ متوازن حالت میں لانے کے لئے کافی زیادہ ریکی کی ضرورت ہوتی ہے۔