نظرِ بد – جادو- جنات اور بندش

اس مضمون کو لازمی پڑھیں اور خوب سمجھ کے ساتھ پڑھیں کیوں کہ یہ بھی ایک ایسا راز ہے جس کو حضرت انسان کو خاص آج کے اس دور میں سمجھنا ضروری ہے۔
 
ایسے مضامین عوام الناس کی اصلاح کے لئے لکھے جاتے ہیں ۔ آپ پر لازم ہے کہ ان کو سمجھ کر پڑھیں اور دوسروں کو بھی پڑھوائیں۔ ہماری مصروف زندگی میں جن دو چیزوں کی اس وقت اشد ترین ضرورت ہے وہ ہیں “آگہی” اور “تحقیق” ۔ جب سے ہم نے ان دونوں سے کام لینا چھوڑ دیا نہ صرف یہ کہ ہم گمراہ ہو گئے بلکہ مشکلات بڑھتی ہی چلی گئیں۔ آج حالت یہ ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی مسئلہ کا شکار نظر آتا ہے۔ مسائل و مشکلات کی وجہ جہاں ہمارے اعمال ہیں وہاں ایک وجہ جادو، سحر، جنات اور نظر کا ہونا بھی ہے۔ جس پر کسی کی نظر نہیں جاتی۔ دینِ اسلام میں جادو و سحر کے متعلق بے شمار شہادتیں ملتی ہیں اور صرف نظر کے لگ جانے کو متعدد بار قرآن اور احادیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔
 
ترقی یافتہ دور میں لوگوں کی جہالت اس حد تک ہے کہ اگر ان سے یہ کہا جائے کہ ان پر بندش ہے تو فوراً اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ “ہم پر کون جادو کروائے گا ہم نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا”۔
جبکہ اس کے جواب قرآن و حدیث کی آیات و روایات کو بھی جھٹلا دیا جاتا ہے ۔
بعض جگہوں پر ایسا دیکھنے میں آیا کہ جادو، جنات اور بندش کے مسائل جانتے ہوئے بھی علاج نہیں کروایا جاتا بلکہ اپنی نا سمجھی کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہوئے کہ دیا جاتا ہے کہ “ہم نے تو اللہ پر چھوڑ دیا ہے” ۔
 
ایک صاحب نے تو یہاں تک انتہا کر دی کہ جب ان سے فرمایا گیا کہ آپ کے گھر پر جنات کے شدید اثرات ہیں ۔ تو جواب دیتے ہیں “ہم ان سب باتوں کو نہیں مانتے”۔
 
یعنی آپ دین میں پیش کئے گئے حقائق کو ہی جب تسلیم نہ کریں تو اس کا واضح مقصد یہ ہے کہ آپ کا ذہن مکمل طور پر جادو اور بندش نے باندھ دیا ہے۔

آج کل جادو سحر اور سفلی علوم کا سلسلہ عام ہے۔ لوگ جادو سحر اور بندش میں مبتلا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سفلی علوم کے ذریعے ، رشتوں کی بندش کردی جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں یا تو رشتے آتے ہی نہیں یا لگے لگائے رشتے بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور اس طرح رشتوں میں دراڑ پڑ جاتی ہے ۔ اس ہی طرح بذریعہ جادو میاں بیوی کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی جاتی ہے۔اور نوبت طلاق تک آجاتی ہے۔ کچھ گھروں میں دیکھا گیا کہ میاں بیوی ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے، پھر اچانک ایک دوسرے کی شکلوں سے بھی نفرت ہو جاتی ہے۔

بعض حاسدین بچوں پر جادو کروا دیتے ہیں جس سے بچے نافرمان ہو جاتے ہیں اور والدین کو ان سے نفرت ہو جاتی ہے۔

جادو سحر کے ذریعے عورتوں کی کوکھ باندھ دی جاتی ہے تا کہ حمل قرار نہ پائے۔  جادو کے ذریعے خاندان کے خاندان تباہ کر دئے جاتے ہیں۔ یہ وہ عام وجوہات ہیں جو ہر کسی کے فہم میں ہیں چاہے یقین کریں یا نہ کریں

لیکن

اس کے علاوہ بھی بندش لگ جانے کی اور بھی وجوہات ہوتی ہیں۔ اور بندش خود بخود لگ جاتی ہے۔

ایسے لوگ جو آسیبی مریض ہوتے ہیں یا جن کے گھر آسیبی ہوتے ہیں وہاں پر بندش خود بخود لگ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر کام مین رکاوٹ آجاتی ہے۔مشکلات پیداء ہونا شروع ہو جاتی ہیں، گھر کا سکون تباہ ہو جاتا ہے۔ باہمی تعلقات نفرت اور عداوت میں بدل جاتے ہیں۔ پہلے سے طے شدہ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور طلاقیں ہو جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے گھر ایسی جگہ آباد ہیں جہاں پہلے قبرستان تھا، یا اس گھر میں کسی بزرگ کا مزار تھا یا ہے۔

ایسا لڑکا یا ایسی لڑکی جس پر بندش یا جادو اور جنات کے اثرات ہوں اور کسی طرح اس کی شادی ہو جائے تو جہاں شادی کر کے جائے گی اس گھر میں بھی جادو، سحر اور بندش کے اثرات آجائیں گے اور وہی اثرات شوہر میں بھی ٹرانسفر ہو جاتے ہیں تو اس کی آمدنی اگر شادی سے پہلے اچھی تھی تو شادی کے بعد کاموں میں رکاوٹ آنا شروع ہو جائے گی۔

میں نے جن، جادو اور بندشوں کے کاٹ کے آج تک جتنے بھی کیس دیکھے ہیں اور ان کو حل کیا ہے ۔ یہ بات بھی تجربہ میں آئی کہ اگر سحرزدہ شخص کا پہنا ہوا کپڑا بھی اگر کوئی دوسرا پہن لے تو اس تک اثرات چلے جاتے ہیں۔

کچھ لوگوں کو جنات ، موکلات اور ہمزاد کی تسخیر کا برا شوق ہوتا ہے اور وہ کتابوں یا ویب سائٹ سے پڑھ کر عمل کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اور مناسب راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے رجعت کا شکار ہو جاتے ہیں۔  ایسے بھی کچھ لوگ ہم نے دیکھیں جنھوں نے اولیاء اللہ سے منسوب کتب میں کچھ اوراد دیکھے اور ان کو کرنے بیٹھ گئے اور بعد میں ان پر اس ہی طرح بندش لگ جاتی ہے۔ یہ بات یاد رکھیں اولیاء اللہ نے کسی کتاب میں کبھی کوئی تسخیر کا عمل نہیں لکھا، جملہ اعمال و وظائف وہی تھے جو انھوں نے اپنے مریدین اور خلفاء کو عنایت کئے تھے اور ان کی اجازت بھی ان ہی تک محدود تھی۔ بعد وصال وہ اجازتیں محض ان خلفاء تک رہتی ہیں جن کو انھوں نے اپنی حیات میں فیض پہنچا دیا تھا۔ صرف کتابوں سے فیض حاصل کیا جا سکتا تو آج کوئی پریشان نہ ہوتا۔اجازت کا قانون بھی یہ ہی ہے کہ پہلے کسی بھی عمل کو کرنے کے لئے اجازت لینی چاہیے۔

بعض گھروں میں ایسے پرانے گھر درخت ہوتے ہیں جن کو صاحبِ خانہ کٹوا دیتے ہیں ۔ یاد رہے کہ جنات کا بسیرا عموماً درختوں پر ہوتا ہے ان کو کاٹ دینے سے آپ ایک مخلوق کو بے گھر کر دیتے ہیں اور اس ہی طرح جناتی اثرات اور بندشوں کے شکار ہو جاتے ہیں۔

مندرجہ بالا وجوہات بیان کرنے کے باوجود بھی اکثر لوگوں کو اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ خاندان کے کسی شخص نے ہی یہ عمل کروایا ہے۔ یہ بات واضح کرنی ضروری ہے کہ نظر بد کا لگ جانا، جادو سحر کا ہو جانا، جنات کا سایہ یہ سب ایسی حقیقتیں ہیں جن کی مثال دینِ اسلام میں موجود ہے۔ دلائل سامنے ہونے کے باوجود بھی کوئی شخص ان باتوں سے انکاری ہو تو اس کا مطلب وہ حق کا انکاری ہے۔

آیئے جادو اور نظر بد کی حقیقتیں قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھتے ہیں:
 

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولاَ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَ تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُواْ لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْاْ بِهِ أَنفُسَهُمْ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ۔

اور وہ (یہود تو) اس چیز (یعنی جادو) کے پیچھے (بھی) لگ گئے تھے جو سلیمان (علیہ السلام) کے عہدِ حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) نے (کوئی) کفر نہیں کیا بلکہ کفر تو شیطانوں نے کیا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس (جادو کے علم) کے پیچھے (بھی) لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت (نامی) دو فرشتوں پر اتارا گیا تھا، وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے یہاں تک کہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض آزمائش (کے لئے) ہیں سو تم (اس پر اعتقاد رکھ کر) کافر نہ بنو، اس کے باوجود وہ (یہودی) ان دونوں سے ایسا (منتر) سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے، حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ ہی کے حکم سے اور یہ لوگ وہی چیزیں سیکھتے ہیں جو ان کے لئے ضرر رساں ہیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتیں اور انہیں (یہ بھی) یقینا معلوم تھا کہ جو کوئی اس (کفر یا جادو ٹونے) کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (ہوگا)، اور وہ بہت ہی بری چیز ہے جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں (کی حقیقی بہتری یعنی اُخروی فلاح) کو بیچ ڈالا، کاش! وہ اس (سودے کی حقیقت) کو جانتے۔

البقره، 2: 102

جادو محض وہم نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ لیکن اسے مؤثرِ حقیقی سمجھنا کفر اور اس کے ذریعے کسی کو تکلیف دینا حرام ہے۔ جو شخص جادو کرتا ہے یا کرواتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔
جادو لغت میں ایسے اثر کو کہتے ہیں جس کا سبب واضح نہ ہو۔ عرف عام میں جادو ان عوامل کو کہا جاتا ہے جن میں شیاطین کا دخل ہو، اور قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ہر ایسا کام کہ جس میں شیاطین کو خوش کرکے ان کی مدد حاصل کی گئی ہو، جادو کہلاتا ہے۔

نظرِ بد کی حقیقت کیا ہے؟

نظر بد یا نظر لگنا ایک قدیم تصور ہے جو دنیا کی مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔ اسلام کے صدرِ اوّل میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے عرب کے ان لوگوں کی خدمات لینے کا ارادہ کیا جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے ہیں ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اور ان بدنیتوں کے تمام حربے ناکام ہوگئے۔ ان کی اس شرانگیزی کو قرآن میں اس طرح سے بیان کیا ہے کہ:

وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌO

اور بے شک کافر لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ آپ کو اپنی (حاسدانہ بد) نظروں سے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے۔

الْقَلَم، 68: 51

اس آیت میں نظرِ بد میں نقصان کی تاثیر ہونے کا اشارہ ہے جو کسی دوسرے انسان کے جسم و جان پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ:

الْعَيْنُ حَقٌّ وَ نَهَی عَنِ الْوَشْمِ.

نظر کا لگ جانا حقیقت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔

  1. بخاري، الصحيح، 5: 2167، رقم: 5408، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، 4: 1719، رقم: 2187، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 319، رقم: 8228، مصر: مؤسسة قرطبة

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ کَانَ شَيْئٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا.

نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے (نظر کے علاج کے لیے) غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کر لو۔

  1. مسلم، الصحيح، 4: 1719، رقم: 2188
  2. ابن حبان، الصحيح، 13: 473، رقم: 6107، بيروت: مؤسسة الرسالة

نظر بد کے برے اثرات ہوتے ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظر بد سے بچاؤ کے لئے جھاڑ پھونک یعنی دم درود کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دم کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

رُخِّصَ فِي الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ وَالْعَيْنِ.

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین چیزوں کیلیٔے جھاڑ پھونک کی اجازت دی:

  1. نظر بد،
  2. بچھو وغیرہ کے کاٹے پر،
  3. پھوڑے پھنسی کے لئے۔
  1. مسلم، الصحيح، 4: 1725، رقم: 2196
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 118، رقم: 12194
  3. ترمذي، السنن، 4: 393، رقم: 2056، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا:

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَوْ أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَی مِنَ الْعَيْنِ.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا یا حکم دیا کہ نظر بد لگنے کا دم کیا کرو۔

  1. بخاري، الصحيح، 5: 2166، رقم: 5406
  2. مسلم، الصحيح، 4: 1725، رقم: 2195

ایک حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم رَأَی فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ فَقَالَ اسْتَرْقُوا لَهَا فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ.

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے گھر کے اندر ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر نشانات تھے۔ ارشاد فرمایا کہ اس پر کچھ پڑھ کر دم کرو کیونکہ اس کو نظر لگ گئی ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، 5: 2167، رقم: 5407
  2. مسلم، الصحيح، 4: 1725، رقم: 2197

نظر بد سے علاج کے لئے معوذتین پڑھ کر دم کیا جائے اور یہ دعا بھی کی جائے جو حدیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ زوجہ مطہرہ نبی کریم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی بیمار ہوتے تو جبرئیل علیہ السلام آکر آپ کو دم کرتے اور یہ کلمات کہتے:

بِاسْمِ اﷲِ يُبْرِيکَ وَمِنْ کُلِّ دَائٍ يَشْفِيکَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَشَرِّ کُلِّ ذِي عَيْنٍ.

اللہ کے نام سے، وہ آپ کو تندرست کرے گا، اور ہر بیماری سے شفا دے گا اور حسد کرنے والے حاسد کے ہر شر سے اور نظر لگانے والی آنکھ کے ہر شر سے آپ کو اپنی پناہ میں رکھے گا۔

قرآن مجید کی آخری دو سورتوں کو معوذتین کہتے ہیں ان میں بھی پناہ مانگی گئی ہے۔ لہٰذا اُن سے بھی نظربد کا علاج کیا جاتا ہے:

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ کَانَ يَنْفُثُ عَلَی نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ فَلَمَّا ثَقُلَ کُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَکَتِهَا.

حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم اپنے اس مرض کے اندر جس میں آپ کا وصال ہوا معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا کرتے تھے۔ جب آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں انہیں پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتی اور بابرکت ہونے کے باعث آپ کے دستِ اقدس کو آپ کے جسم اطہر پر پھیرا کرتی۔

  1. بخاري، الصحيح، 5: 2165، رقم: 5403
  2. مسلم، الصحيح، 4: 1723، رقم: 2192

درج بالا آیات و روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ نظرِ بد کوئی وہمہ یا توہم پرستی نہیں بلکہ حقیقت ہے جس کے اثرات ظاہر ہونے پر دَم کرانا درست ہے۔

جنات اللہ تعالی کی ایک مخلوق ہیں اور تمام انسانیت ان کی حقیقت کو مانتی ہے۔ جن کے معنی چھپا ہوا ہونا، غائب ہونا۔

ان میں سے بعض مسلمان ہوتے ہیں اور بعض کافر، جنات انسانوں کی طرح جنت میں بھی جائیں گے اور دوزخ میں بھی اور یہ انسانوں کی طرح مکلف ہوتے ہیں اور قیامت کے دن حساب وکتاب ہو گا۔ قرآن مجید میں پوری ایک سورۃ جس کا نام الجن ہے موجود ہے اس کا مطالعہ فرمائیں۔

2۔ جنات بھی انسانوں کی طرح ایک مخلوق ہے اور یہ بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

(الذَّارِيَات ، 51 : 56)

اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔

اسی طرح فرمایا :

وَالْجَآنَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ

الحجر 27

اور جنات کو اس سے پہلے کہ وہ گرم ہوئے تھے پیدا کر چکے تھے۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے پیدا کیے گئے تھے۔

اسی طرح فرمایا

وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ.

 الرحمن : 15

اور جنات کو خالص آگ سے پیدا کیا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو جن وانس اور ہر سرخ وسیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت جن وانس کی طرف ہوئی ہے۔ بخاری ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اسود اور احمر کی طرف۔

علماء کا اس میں اختلاف ہے بعض نے کہا کہ اسود و احمر سے مراد عرب وعجم ہیں۔ بعض نے کہا، سرخ اور سفید ہیں اور بعض نے کہا ان سے مراد جن وانس ہیں۔

جنات میں سے بعض مسلمان ہوتے ہیں اور بعض کافر و نافرمان ہوتے ہیں۔

وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ

الجن : 14

اور یہ کہ ہم میں سے بعض فرماں بردار بھی ہیں اور ہم میں سے بعض نافرمان بھی۔

بعض دفعہ انسان جنات پر غلبہ پا لیتے ہیں اور بعض اوقات جنات انسانوں پر۔ جنات حقیقت ہیں اور تمام مذاہب ان کی حقیقت کو مانتے ہیں۔ ہندو، عیسائی، یہود، مسلمان، سب کے سب ان کی حقیقت کو مانتے ہیں۔

بندش کیا ہے؟
بندش سے مراد کسی چیز کو باندھ دینے یا روک دینے کے ہیں۔
جیسے رشتہ باندھ دینا ، کاروبار باندھ دینا، ترقی باندھ دینا، اولاد کا ہونا باندھ دینا، میاں بیوی کی خوشحالی باندھ دینا۔
دنیا کا کوئی بھی جادو، کوئی بھی سحر، کوئی بھی جنات کا اثر یا نظر سب سے پہلے انسان کے ذہن پر حملہ آوار ہوتا ہے۔ کیونکہ انسان اپنے جسم میں سب سے زیادہ استعمال اپنے دماغ کا کرتا ہے، کاروبار ہو، رشتہ داری ہو، تعلیم ہو، یا محبت غرض کہ دنیا کا کوئی فیصلہ ہم ذہن اور سوچ کے بنا نہیں کر سکتے۔

جادو اور بندش کے اثرات اچھے خیالات کو برے خیالات میں بدل دیتے ہیں ، بیوی کی شکل بری لگنے لگتی ہے، رشتوں سے نفرت ہونے لگتی ہے، ذہن میں ہر وقت حسد، جلن اور تعصب جگہ بنا لیتا ہے۔ بس یہ ہی بربادی ہے۔

اگر کسی بھی کام میں رکاوٹ ہے ، اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ جادو سحر، جنات یا بندش کے زیرِ اثر ہیں تو اس کا علاج ضرور کروائیں اور خود کو پانچ وقت کی نماز، روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ ہر وقت چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے درود شریف کی مداومت کا عادی بنائیں۔

 
نوٹ: ہم نے ویب سائٹ پر جادو، جنات اور بندش کے خاتمے کے لئے بہت پہلے ہی اوراد و وظائف اور طریقے بیان کر دئیے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود بھی اگر کسی شخص کو ضروت محسوس ہو تو ہدیہ بھیج کر ہم سے علاج کروا سکتا ہے۔