سعد و نحس

میرے مُرشِد اور دیگر روحانی اساتذہ نے مجھے تاکید فرمائی کہ مسلمان و مومن کے لئے کچھ نحس نہیں اور کافر کے لئے کچھ سعد نہیں۔  مگر اس بات پر یقین کامل اُس دن ہو گیا جب میں نے قرآنِ کریم کی اس آیت مبارکہ کو سمجھ کر بڑھا۔

وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
سورة الجاثية (آیت: ۱۴)

And He has subjected to you whatever is in the heavens and whatever is on the earth – all from Him. Indeed in that are signs for a people who give thought.

اور آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے۔ جو غور کریں یقیناً وه اس میں بہت سی نشانیاں پالیں گے

اس آیتِ مبارکہ میں بے شک اُن لوگوں کے لئے ہدایت ہے جن کا ماننا ہے کہ کسی بھی حرف و عدد و ستارے کے نحس اثرات سے اُن کی زندگی تباہ ہو گئی ہے۔ یہ یقیناً علمِ نجوم کے بچاری اور کفار کے ساتھیوں کا پھیلایا ہوا فتنہ ہے۔ اس سے اہلِ ایمان کو بچنا چاہیئے۔ یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لیں کہ کسی بھی اسماء و آیت کے جلالی اثرات یا رجعت ہرگز ہرگز کسی کامل ایمان والے کو نہیں ہوتی۔ لیکن ہمارے اپنے اعمال کی سزا کبھی اس ہی دنیا میں ملتی ہے اور کبھی آخرت میں۔ اس کے لئے استغفار کا وظیفہ اور توبہ کا وسیلہ ہمارے پاس ازل سے ابد تک موجود ہے۔ ہمیں اللہ کے کلام پر کامل ایمان سے بھروسہ کرتے ہوئے اُس کی رضا میں راضی رہنے کا علم سیکھنا ہوگا۔
جزاک اللہ