شیطان کی فریب کاریاں

شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے ، اُس نے ہمارے جد اعلی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد سجدہ سے انکار پر راندہ درگاہ ہو کر ابن آدم کو سیدھے راستہ سے بہکانا اور معاصی کا ارتکاب کرانا اور دوزخ میں اپنے ساتھ لیجانے کا عزم کر رکھاہے۔ اس کے مکر و فریب کے ہزار ہا جال ہیں۔ بعض موٹے ظاہر اور بعض نہایت  باریک پوشیدہ جن سے اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر بچنا نا ممکن ہے۔

حکایت ہے کہ حضرت سیدنا غوث اعظم محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ العزیز چالیس سال کی ریاضت کے بعد اپنے حجرہ سے باہر تشریف لائے تو وہ جگہ منور ہو گئی آپ نے اپنے نور باطن اور علم ظاہر سے سمجھ لیا کہ یہ نورانیت ، نورِ حقیقی کی نہیں ہے بلکہ شیطانی شعبدہ بازی ہے تو آپ نے تعوذ اور لاحول پڑھا، تو وہ نور غائب ہو گیا اور شیطان کی آواز سنی ۔۔۔ اے عبد القادر تم کو تمھارے علم نے بچا لیا ، آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا  ” او ابلیس پھر دھوکہ دے رہا ہے ۔۔۔ عصمنی ربی لا علمی  مجھ کو میرے علم نے نہیں بچایا بلکہ میرے رب نے بچایا ہے اگر اللہ کرم نہ فرمائے تو علم کیا کر سکتا ہے، اے ابلیس علم تو تیرے پاس بھی کافی ہے تو اپنے علم سے کیوں نہ بچا رب کی نافرمانی کر بیٹھا۔ شیطان یہ سُن کر ہاتھ ملتا دانت پیستا اور یہ کہتا ہوا کہ میرا دوسرا وار بھی خالی گیا افسوس کرتا ہوا چلا گیا۔

ایک اور حکایت میں حضرت سلطان الطائفہ جنید بغدادی علیہ الرحمہ کا ایک مرید راہ سلوک کرتے ہوئے عجائبات دیکھنے لگا اور اپنے واقعات ہم نشینوں میں بیان کرنے لگا جو رات کو دیکھتا صبح ساتھیوں کو سناتا کہ آج میں نے جنت کی سیر کی، آج جنت کی نہر کا پانی پیا، آج جنت کے پھل کھائے۔ جب یہ خبر حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کو پہنچی تو ارشاد فرمایا، وہ شیطان کے ہتے چڑھ گیا  اور اس شخص کو اپنی ولایت پر اتنا یقین ہو گیا کہ اس نے اپنے پیر کی خدمت میں آنا جانا چھوڑ دیا یہ ہی شیطان کا مقصد تھا کہ اس کو علیحدہ کر کے تباہ کر دے۔مگر پیر کامل کو اپنے مریدوں سے بوجہ اللہ شفقت و محبت ہوتی ہے اور ہاتھ پکڑنے کی لاج ہوتی ہے۔ اپنے مرید کو تباہ و برباد ہونے سے بچانے کیلئے خود اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس کے حالات معلوم کئے تو اس مرید نے بتایا ۔۔۔ سرکار میں یہ سب کچھ حالت بیداری میں دیکھتا ہوں براق پر سوار ہو کر جنت میں جاتا ہوں وہاں کے پھل فروٹ کھاتا ہوں پانی نہر کوثر کا پیتا ہوں حور و غلمان دیکھتا ہوں۔ حضرت جنید بغدادی نے فرمایا ۔۔۔ بڑی خوشی کی بات ہے مگر شیطان کے مکر و فریب میں نہ آجانا۔ آج رات کو جب سیر کیلئے جاؤ اور ان نعمتوں سے نوازے جاؤ تو بلند آواز سے “لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم” پڑھنا ۔ اگر وہ جنت حقیقی ہوگی تو جوں کی توں رہے گی ۔ مرید نے عرض کیا حضور وہ حقیقت ہوتی ہے میں شیطان کے فریب میں نہیں آسکتا۔ مگر میں آپ کے حکم کے مطابق یہ عمل کر کے دیکھ لونگا۔ دوسری رات کو وہ جنت کی سیر کیلئے گیا۔ براق پر سوار ہو کر بہشت میں داخل ہوا اور جنت کے میوے جات سامنے آئے تو پیر کی نصیحت بھی یاد آگئی۔ فوراً بلند آواز سے لاحول کا ورد کیا تو نہ جنت رہی نہ براق ، نہ میوے جات رہے ، بلکہ براق کی جگہ گدھا کھڑا تھا جنت کے باغ کی جگہ گند کوڑے کا ڈھیر تھا اور پھلوں کی جگہ غلاظت گندے مٹی کے ٹھیکرے میں بھری رکھی تھی۔ وہ مرید حضرت کی خدمت میں صبح کو حاضر ہوا اور سارا ماجرا سنا کر
تجدید بیعت کی۔