علمِ غیب

قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۶۵﴾
کہہ دیجئے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کئے جائیں گے؟ آیت#65 سورت النمل

یہ بات انسان کی سرشت میں داخل ہے کہ وہ کسی بات کے انتظار میں صبر سے زیادہ کام نہیں لے سکتا۔ اس کے مرتعش ہاتھوں میں صبر کا پیمانہ ہمیشہ چھلکتا رہتا ہے۔ وہ اپنی ایک ایک حرکت اور اپنے ایک ایک عمل کا نتیجہ فوری معلوم کرنے کے لئے بے چین رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنی بے صبری کے جھونکوں سے دفترِ قدرت کا ایک ایک ورق الٹ دے۔ اور دیکھے کہ اس کے اندر کیا ہے۔

مجموعی طور پر اولادِ آدم کی مثال  اس طالب علم کی سی ہے  جس نے یونیورسٹی کا امتحان دیا ہو لیکن  اس سے یہ نہیں ہو سکتا کہ کچھ عرصہ صبر و سکون سے بیٹھے۔ کہ ایک دن نتیجہ شائع ہوگا اور اُسے معلوم ہو جائے گا کہ وہ امتحان میں کامیاب ہوا ہے یا نہیں۔

بلکہ وہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ کسی طرح مجھے وقت سے پہلے یہ بات معلوم ہو جائے۔

انسان کا علم بہت محدود ہے اسے یہ خبر نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے،  لیکن وہ مستقبل کو جاننے کی غرض سے علوم قیاسیہ کی جانب رجوع کرتا ہے اور اندازوں کو سچ سمجھ بیٹھتا ہے۔

علمِ غیب کا علم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں یا اُس کو جس کو اللہ چاہے۔ ، لیکن چند کاملین  یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو چند اشارات ضرور بتا دیئے ہیں۔ جن سے وہ اپنی تشنگیِ شوق بجھا سکے۔ انہی مخفی اشارات کے سنگِ احساس پر بے صبر اولاد آدم نے اپنے مستقبل کے حالات معلوم کرنے کے لئے مختلف علوم کا عالیشان قصر تیار کیا ہے۔ علم الاعداد ، علم نجوم ، جیوتش، رمل، جفر قیافہ ، تعبیر وغیرہ سب اس ہی کی زنجیریں ہیں۔ جاننا چاہئے کہ علمِ الاعداد ، علم جفر اور علمِ رمل آج اپنی اصل کھو چکے ہیں اور موجودہ علوم میں علم نجوم کا جوڑ ملتا ہے جو کہ ہرگز بھی ان علوم کا حصہ نہ رہا تھا۔

خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں ایک نجومی کے علم و ہنر کا بہت چرچا ہوا۔ تو خلیفہ نے اپنے حضور میں اسے طلب کر کے یوں ہی ہنسی ہنسی میں پوچھا۔ بتاؤ ! ہماری کتنی عمر باقی ہے؟

نجومی نے حساب لگا کر عرض کیا۔۔۔ صرف دو سال باقی ہیں۔ نجومی کا اتنا کہنا تھا کہ خلیفہ کے چہرے پر یاس و حسرت کی زردی چھا گئی۔ وزیر اعظم جعفر برمکی بڑا دانا و مدبر تھا۔ اس نے دیکھا کہ خلیفہ کی حالت متغیر ہوتی جاتی ہے ۔ اگر اس کے دل و دماغ پر یوں ہی وہم و فکر کا غلبہ رہا تو چار دن میں شیراز ؤ سلطنت منتشر ہو جائے گا۔ جعفر کو عجیب تدبیر سوجھی، فوراً نجومی سے کہا ۔۔۔ تم جھوٹ بولتے ہو !۔

کہ خلیفہ کی عمر کے صرف دو سال باقی ہیں ۔ بھلا بتاؤ تمھاری عمر کتنی ہے ؟۔۔۔

نجومی نے کہا میری عمر تو ابھی بہت باقی ہے۔ دس سال تک میری زندگی کو ابھی کوئی خطرہ نہیں۔ جعفر نے کہا۔ دیکھو ابھی تمھارے اس نجوم کا امتحان ہو جاتا ہے۔ اور ثابت ہو جاتا ہے کہ تمھاری زندگی کے دس سال تو کیا دس منٹ بھی باقی نہیں۔ اتنا کہ کر ادھر جلاد کی طرف اشارہ کیا  اور ادھر نجومی کا سر تن سے جدا تھا۔

نجومی اور اس کے نجوم کا یہ حشر دیکھ کر خلیفہ کی جان میں جان آئی۔

قارئینِ کرام ! عقل مند کو اشارہ کافی ہے۔