علم الاعداد

اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں

وَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

ترجمہ: وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بے فائده نہیں پیدا کیں۔ وه یہ دﻻئل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں

مزید قرآن میں ایک جگہ فرمایا گیا 

لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا

ترجمہ : تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے

قرآن کی روشنی میں عقل والوں کے لیئے علم الاعداد کی جانب واضح اشارہ موجود ہے ۔ علوم انسان کی آنکھ ہیں وہ آنکھ جو دور بین کے ساتھ لگی ہوئی ہے  ۔ جسطرح دور بین کے ساتھ مشاہدات قدرت وسیع سے وسیع محیط پر دیکھے جا سکتے ہیں اس ہی طرح علوم مخفیہ سے مشاہدات قدرت کے چھپے رازوں ، انکی شکل و صورت ، وضع قطع اور لطافت کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ جو کہ ایک عام انسان کی نظر سے پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔  علم الاعداد ایک ایسا علم ہے جس کے ماہرین نے حتی الوسع اس علم کو اپنے سینوں میں ہی مدفن رکھا ہے۔

علم الاعداد ایک قدیم علم ہے ۔ پرانے زمانے کے لوگ عبرانی ، آرین ، مصری ، قطبی وغیرہ میں اس فن کو جاننے اور ماننے والے گزرے ہیں ۔اور یہ علم ان زمانوں میں رائج اور زیر استعمال تھا ۔ بعد میں اہل عرب نے اپنا کر جفر ایجاد کیا اور اسکا جزو اعظم اعداد کو قرار دیا ۔

  تجر بہ اس بات کا شاہد ہے کہ دنیا کے تمام ظاہری و باطنی علوم علم الاعداد کے بغیر نا مکمل ہیں اور اس علم کے بغیر کوئی بھی شے تجربات کی کسوٹی پر اپنی پرکھ اور پہچان نہیں کروا سکتی ۔  اس لیئے علم رمل ، علم جفر اور علم نجوم کا سارا دارومدار اس ہی علم پر ہے۔ علم روحانیات کا سارا عمل دخل علم الاعداد پر ہی انحصار کرتا ہے ۔ اس علم کے بغیر سب علوم نا مکمل اور بے اثر ہیں ۔

ہر عدد اپنے ہیر پھیر ، جمع و تقسیم اور ضربوں سے اپنے اثر کو بڑھاتا ہے ۔ یعنی اس عمل سے اس عدد کے اثرات بڑھ جاتے ہیں ۔ اعداد چاہے اپنی وسعت کے لحاظ سے جس قدر بھی ہوں ۔ وہ ایک سے نو تک کے عدد سے مل کر ہی ترتیب پاتے ہیں۔  ایک کا عدد ابتداء ہے اور نو کا عدد انتہا ۔  تمام دنیا کی گنتی اعداد میں موجود ہے اور اعداد کے خواص قدرت نے موجودات عالم پر تقسیم کیئے ہیں۔ اعداد ہر شے پر اثر رکھتے ہیں۔ تمارے نام، پیدائش ، جسم ، روح ، کام ، کاروبار، ملنا جلنا، سماجی و معاشی مسائل ، تعلیم و تربیت ، عزت و شہرت ، دوستی و دشمنی غرض کہ زندگی کا ہر لمحہ ، ہر قدم ، ہر فیصلہ ان اعداد کے زیر اثر ہے۔

غرضیکہ یہ علم بحر بیکراں کی مانند ہے اور اس میں غوطہ زن افراد ہی اپنی اپنی قابلیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کی بدولت استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کے اصول و قواعد کی تعریف و توثیق کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ اور اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک یہ قدرت کا نظام قائم ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایسے تمام علوم کا تعلق کسی ایک دین و مذہب سے نہیں بلکہ قانون قدرت سے منسلک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان علوم میں وہ راز پوشیدہ فرما دیئے ہیں کہ ہر کوئی فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔

کسی بھی علم سے فائدہ اٹھانے کے لیئے کھلے دل و دماغ کی ضرورت ہے ۔ اگر آپ میں یہ صلاحیت موجود ہے تو آپ ایک پر سکون زندگی گزار سکتے ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ علم الاعداد کا حساب اپنی گہرائیوں میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور بہت زیادہ احتیاط اور مطالعہ کا محتاج ہے۔ تاہم ابتدائی اور ضروری مسائل جن کا ایک عام انسان کے لیئے سمجھنا ضروری ہے وہ سہل طریقے سے بیان کر رہا ہوں۔

واضح رہے کہ انسان بہت کچھ کر سکتا ہے لیکن اسے اعداد کے مختلف مقامات کے خواص کی لاعلمی کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ اعداد یعنی نمبرز (1 سے لیکر 9 تک) تین قسم کے خواص رکھتے ہیں۔ انفرادی ، شخصی اور مقسومی حالت ، اگر ہم مزاجی طور پر ان اعداد کا انکشاف کریں تو شاید اکثر تم نے بھی دیکھا ہو گا کہ بعض اعداد جن لوگوں کے لیئے خوش قسمتی کی علامت ہیں دوسروں کے لیئے بد بختی کا باعث ہوتے ہیں۔اور یہ بات تحقیق سے گزر چکی ہے کہ سعادت طالع والے واقعات خوش بخت عدد والے دن میں واقع ہوتے ہیں۔ اور بد بخت واقعات منحوس دنوں میں طلوع بذیر ہوتے ہیں۔ یہ جاننا اور سمجھنا ضروری ہے کہ خوش قسمتی اور بد قسمتی کے اعداد کا مطالعہ کیا جائے تاکہ ہم اپنے کاروبار یا دنیاوی زندگی کو فلسفیانہ طور سے سمجھ کر اچھی طرح گزار سکیں۔

یہ اعداد جن سے واقعات و حادثات اور زاتی مشاغل جیسے کاروبار  ، رہائشی حالات وغیرہ وابستہ ہیں ۔ ان کا علم ہونا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ میں ہرگز موضوع کو پیچیدہ نہیں کرنا چاہتااس لیئے ہر بات کو سہل طریقے سے بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ سب سے پہلے اس علم کے اہم اصولوں کو سمجھو ۔ یعنی اعداد کا حروف کے ساتھ باہمی تعلق معلوم ہونا چاہیئے۔ میں جانتا ہوں مختلف مصنفوں نے حروف تہجی کی مختلف قسمیں دی ہیں ۔ لیکن جو نہایت معتبر  حروف تہجی ہماری زبان میں ہے اس کو ابجد قمری کہا جاتا ہے۔ یہ ابجد قمری نام کے اعداد نکالنے کے کام آتی ہے ۔

اپنے نام کے اعداد معلوم کرو 

یاد رہے کہ پیدائشی نام ، موجودہ نام ، تخلص ، تاریخ پیدائش وغیرہ کے  عدد الگ الگ طرح سے تمھاری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ ہر نمبر کی اپنی الگ اہمیت ہے ۔ جس کے لیئے علم الاعداد سے واقفیت ہونا ضروری ہے۔

اس سے قبل جو ابجد پیش کی گئی تھی اس کے مطابق تم اپنے نام کے اعداد با آسانی حاصل کر سکتے ہو لیکن یاد رہے عدد نو سے آگے نہیں بڑھنا چاہیئے ۔ ایک مثال سے سمجھاتا ہوں ۔

فرض کیا تمھارا نام احمد ہے۔

گزشتہ ابجد میں دیکھا تو الف کا عدد 1 ہے
ح کا عدد 8 ہے
م کا عدد 4  ہے

اور د کا عدد بھی 4 ہے

اب ان کو جمع کرو 

1+8+4+4

حاصل جواب 17 آیا

لیکن ہمیں تو 9 کے عدد سے آگے جانا ہی نہیں اسلیئے ہم 1 اور 7 کو بھی جمع کریں گے۔

1+7

حاصل 8 ہوا۔

بس یہ 8 احمد کا عدد مفرد ہے ۔ اور یہ 8 نمبر والے افراد کا کردار ظاہر کرے گا۔

علم الاعداد ایک وسیع علم ہے۔ ہر کسی کی یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے مقصد کا عدد معلوم کرے، اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جانے اور اس کے مطابق زندگی کو کامیابی کے راستوں پر گامزن کرے۔ جن کو اس علم سے واقفیت ہے وہ اس علم کے ایسے بادشاہ بنے بیٹھے ہیں جیسے اسے ساتھ ہی لیکر پیداء ہوئے تھے ۔ میں نے چند ہی کچھ ایسے ماہرین کو دیکھا جنھوں نے علم حاصل بھی کیا اور اس کو ضرورت مند کے لیئے عام بھی کیا ۔ ایسے حضرات میں جناب حضرت کاش البرنی اور محترم خالد اسحاق راٹھور صاحب کی تصانیف کے ساتھ ڈاکٹر عبد الرحیم رند کی کتب ہمیشہ ایک رہبر کی طرح ساتھ چلتی ہیں۔ نیز اس بات کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر علم اور اس علم سے منسوب اشخاص کا طریقہ عمل تجربات کی بنیاد پر مختلف بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل ہم نام کے اعداد معلوم کرنے کا طریقہ بیان کر چکے ہیں۔ آج ہم تاریخِ پیدائش کے اعداد معلوم کریں گے۔ اس کو  غور سے سمجھو ۔

فرض کرو تمھاری تاریخ پیدائش 1988 – 11 – 25 ہے

اب اسکا مفرد عدد معلوم کرنا ہے۔ جو کہ اسطرح کیا جائے گا۔

8+8+9+1+1+1+5+2

ان تمام اعداد کو آپس میں جمع کیا تو حاصل 35 آیا

اب 5 اور 3 کو بھی آپس میں جمع کیا تو جواب 8 آیا۔

بس یہ ہی تمھاری تاریخ پیدائش کا مفرد عدد ہے۔

اکثر لوگوں کا سوال ہوتا ہے کہ ہم اپنے نام کے عدد پر یقین کریں یا تاریخ پیدائش والے عدد پر۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تاریخ پیدائش کے عدد کو ہی اہمیت دی جائے ۔ لیکن ایسی کسی صورت میں جہاں تاریخ پیدائش یاد نہ ہو تو نام کا عدد لیکر اس سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نام کسی کا بھی تبدیل ہو سکتا ہے لیکن تاریخ پیدائش کبھی بدلی نہیں جا سکتی اس لیئے اسکے عدد کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔