علم الجفر کی گہرائیاں ؟

علم الجفر ، علم الحروف کے اصولوں پر حوادثِ عالم کو معلوم کرنے کا نام ہے۔

علم الجفر کو علم الحروف بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا علم ہے کہ اس کے ذریعہ آنے والے وقت کی پیشن گوئیاں کی جا سکتی ہیں اور کسی بھی چیز کے بارے میں ایک جچا تلا اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

قدیم علم الجفر کی کتب کے مطابق علم جفر، علم تکسیر کا دوسرا نام ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ سائل کے سوال کے حروف میں تغیر اور تبدیلیاں کر کے جواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ معتبر علم حضرت ابو عبد اللہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب ہے اور اسی نسبت سے یہ علم جفر کہلاتا ہے۔ گویا کہ حضرت جعفر صادق علیہ السلام جفار اول ہیں اور یہی موجد علمِ جفر ہیں۔

تمام قارئین سے گزارش ہے کہ تین بار سورۃ اخلاص پڑھ کر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  کو ایصال ثواب کریں جن کے لگائے ہوئے باغ سے ہم آج تک پھول چُن رہے ہیں اور ہمیشہ چنتے رہیں گے۔

ماہرینِ علم الجفر نے علم الجفر کی ۲۸ ابجدوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ ۲۸ ابجدیں علم آثار اور علم الاخبار میں کام آتی ہیں اور ماہرین علم الجفرکا کہنا ہے کہ  ان کے ذریعہ کائنات کو فتح کیا جا سکتا ہے اور ان کے ذریعہ اگلی اور پچھلی باتوں کا کسی نہ کسی حد تک ادراک کیا جا سکتا ہے۔ یہ ابجدیں در حقیقت لسان الغیب اور پوشیدہ علوم کے حصول کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان ۲۸  ابجدوں میں سے ہر ابجد چاند کی 28 منزلوں سے منسوب ہے۔ ان میں 2 ابجدیں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک ابجد قمری ہے جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور جسے ام الاباجد  یعنی ابجدوں کی ماں سمجھا جاتا ہے۔

اس کے بعد سب سے زیادہ اہمیت ابجد شمسی کی ہے۔ باقی ۲۶ ابجدیں ان دونوں ابجدوں کے ماتحت ہیں۔ لیکن ہر ابجد کی الگ ایک حیثیت ہے اور ہر ابجد سے الگ کام لیا جا سکتا ہے اس لئے سبھی ابجدوں کی تفصیل کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ بعض ابجدیں بعض امور میں تیر کی طرح کام کرتی ہیں اس لئے علم الجفر کے ماہرین نے ہر ابجد کو اپنی جگہ اہم سمجھا ہے اور ہر ابجد سے فائدہ اٹھانے کے لئے الگ الگ طریقے تحریر فرمائے ہیں۔

یہ بات یاد رکھیں کہ یہ ۲۸ ابجدیں تمام ابجدوں کا نچوڑ ہیں اور ان ۲۸ ابجدوں کی مدد سے ہی علم آثار اور علم اخبار کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔ ماہرینِ علم الجفر یہ بھی فرماتے ہیں کہ جس نے ان ابجدوں کو ذہن نشین کر لیا اس نے علم جفر کے ۷۵ فیصد حصے کو اپنی مٹھی میں بند کر لیا۔ اگر مستحصلہ پر قدرت حاصل ہو جائے تو سمجھ لیں کہ آپ نے علم الجفر کی تمام سعادتیں اپنے دامن میں سمیٹ لیں کیونکہ کسی بھی معاملہ میں صحیح مستحصلہ کا برآمد کر لینا ہی ماہر علم الجفر ہونے کی علامت ہے۔

معروف اباجد میں سے یہ دو ہی ابجدیں بیان گئی ہیں، جن میں سے ابجد قمری کو ہمارے مضامین میں فوقیت حاصل رہے گی اور باقی ماندہ ابجدوں کا تذکرہ ہمارے روحانی کورسز میں کیا جاتا ہے، جو آن لائن موجود بھی ہیں اور طالب علم استفادہ بھی حاصل کر رہے ہیں۔ الحمد اللہ

ابجد قمری

ابجد شمسی

حروف زبر بینات

زبر و بینات کا قاعدہ عمل اور مستحصلہ میں بکثرت کام آتا ہے اور اکثر جگہ اس قاعدہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب کسی حرف کو ملفوظی کہا جائے تو اس کا حرف اول زبر کہلاتا ہے اور اس سے وابستہ حروف کو بینات کہا جاتا ہے۔ جیسے “شین” میں حرف ش زبر ہے اور ین بینات ہیں ۔

مستحصلہ کا مطلب

علم الجفر میں کسی بھی قاعدے کو حل کر کے اس کے ذریعے سوال کا جواب حاصل کرنے کو مستحصلہ کہا جائے گا۔

علم الجفر میں سوال پوچھنے کی دو اقسام بیان کی گئی ہیں

مرکزی سوالات اور محوری سوالات
مرکزی سوالات

مرکزی سوالات وہ سوال ہوتے ہیں جو اپنا ثانی نہ رکھتے ہوں۔ یا ایسی بات جو گردشِ زمانہ کے ساتھ تبدیل نہ ہو۔  مثلاً سوال ہے۔

کیا سورج خود روشن ہے؟

روح کیا ہے؟

آسمان کا رنگ کیا ہے؟

ایسے سوالات کو آپ جب بھی حل کریں گے تو ایک ہی جواب آئے گا، اس لئے ان سوالات کا تعلق تاریخ ، ماہ، سن، سے نہیں۔ لہٰذا مرکزی سوالات کے ساتھ یہ معلومات نہ لکھی جائیں۔

محوری سوالات

محوری سوالات وہ ہوتے ہیں جو اپنا ثانی رکھتے ہیں اور گردشِ زمانہ کے ساتھ اُن میں تبدیلی عمل میں آئے۔ مثلاً :۔ آج اکرم علی کہاں ہے؟ یہ سوال تبدیلی کا ہے، مثلاً آج گھر پر ہے، کل فیصل آباد ہوگا، اس سے اگلے دن کسی اور جگہ پر ہوگا۔ اس لئے ایسے سوالات کے ساتھ تاریخ، ماہ، عیسوی ضرور لکھیں۔ ایسے سوالات جو زمانہ ، وقت کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہوں۔ ان میں تخصیص کے لئے تاریخ، ماہ، عیسوی ، وغیرہ کو ضرور شامل کیا جائے۔

حروف زوائد اور ہم رتبہ حروف

ابجد قمری جو کہ علم الجفر کی بنیاد ہے۔ 28 حروف پر مشتمل ہے۔ جبکہ ہماری زبان اردو میں حروف زائد ہیں۔ مثلاً پ، ٹ، چ ، ڈ، ڑ، گ وغیرہ۔ ان حروف کو جفر میں استعمال کرتے وقت مندرجہ ذیل حروف سے بدلیں گے۔ حروف زوائد پ ٹ چ ڈ ڑ گ کے متبادل حروف (ب ت ج درزک) ہونگے۔

ہم رتبہ حروف

ہم رتبہ حروف ان حروف کو کہا جائے گا، جن کے اعداد ابجدِ قمری کے مطابق ایک جیسے ہیں۔

جیسے ا کا عدد 1 ہے

جیسے ی کا عدد 10 ہے لیکن مفرد وہی 1 بنا

جیسے ق کا عدد 100 ہے، لیکن اس کا مفرد بھی ایک ہی بنا

غ کے اعداد 1000 ہیں مگر مفرد وہی 1 ہو گا۔

ہم رتبہ حروف کی جدول یہ ہے

ابجد قمری ایک راز ہے

ابجد قمری تمام اباجد کی بنیاد ہے اور یہ ہی وہ ابجد ہے جس سے کسی بھی اسماء مبارکہ، آیت یا اسم کے اعداد لئے جاتے ہیں۔ تاہم اس کے علاوہ متعدد جدولیں علمائے علم الجفر اور عاملین و کاملین نے روحانیت کے شوقین حضرات کے لئے شائع فرمائی ہیں۔ تاہم راقم الحروف کا اپنا ذاتی تجربہ ابجد قمری کے استعمال میں حیرت انگیز نتائج کا حامل رہا  ہے جس کو آگے جا کر بیان کیا جائے گا۔ ہماری نظر میں جو شخص حروف کی ظاہری و باطنی قوتوں کو اور اس سے منسوب اعداد و عناصر  کو سمجھ گیا وہ کائنات میں ہونے والی روز مرہ رد و بدل کا اندازہ لگا سکتا ہے۔اور اپنے دنیاوی و روحانی مسائل کا حل صرف حروف سے ہی حاصل کر لے گا۔
 انشاء اللہ