علم الحروف اور اسرار

حضرت الشیخ ابو عباس احمد بن علی بونی رحمتہ اللہ علیہ اپنی مایہ ناز تصنیف “شَمسُ المعارف و لطائف العوارف میں علم الحروف و اعداد کی تعریف کچھ اسطرح بیان فرماتے ہیں کہ
تمھیں معلوم ہو کہ جیسے حروف کے آثار ہیں ایسے ہی اعداد میں اسرار ہیں۔ یقینی طور پر عالمِ عَلوی سے عالمِ سِفلی کو مدد ملتی ہے۔ عَالمِ عَرش  عَالمِ کُرسی کی مدد کرتا ہے۔ عِالمِ کُرسی فلک زحل کو مدد دیتا ہے۔ فلک زحل فلک مشتری کی ، فلک مشتری فلک مریخ کی، فلک مریخ فلک شمس کی، فلک شمس فلک زہرہ کی، فلک زہرہ فلک عطارد کی، فلک عطارد فلک قمر کی اور فلک قمر کرہ نار کی، کرہ نار فلک رطوبت کی، فلک رطوبت فلک برودت کی، فلک برودت فلک بیوست کی، فلک بیوست فلک ہوا کی، کرہ ہوا کرہ آب کی، اور کرہ آب کرہ خاک کی مدد کرتا ہے۔ کرہ خاک فلک زحل کی مدد کرتا ہے، پس زحل کے لئے علویات میں حروف جیم ہے۔ اس کے علی الجملہ واقعی عدد تین (3) اور تفصیلاً ترپن (53) ہیں۔ اسی طرح مہم کے چالیس ، یاء کے دس اور جیم کے تین ہیں۔ زحل کے بھی تین حروف ہیں۔

سفلیات میں اُس کا حرف صاد ہے جس کے عدد نوے (90) ہیں۔ علویات میں یہ پانچ ہیں جن کا حرف ھا ہے اور اس کا وفق مخمس ہے۔ فلک مشتری کے عدد 6 ہیں جن کا حرف واؤ ہے اور اُس کا وفق مسدس ہے۔ جہاں تک فلک زہرہ کی تعریف کا تعلق ہے اس کا حرف زاء (ز) ہے اور اس کا وفق مسبع ہے۔ فلک عطارد کی تعریف یہ ہے کہ اس کے عدد آٹھ اور اس کا حرف حاء (ح) ہے۔ اس کا وفق مثمن ہے۔ فلک قمر کی تعریف یہ ہے کہ اس کے عدد نو (9) اور اُس کا حرف طاء (ط) ہے۔ اس کا وفق متسع ہے۔ زحل کا مثلث ۔

تشریح: علم النقوش میں مثلث تین، مربع چار، مخمس پانچ خانوں والے جبکہ مسدس چھی، مسبع سات اور مثمن آٹھ اور متسع نو خانوں والے نقش و تعویز کو کہتے ہیں۔