علم الرمل کی تعریف

علم الرمل ایک مقدس علم ہے ۔ جو کہ ہمارے انبیاء علیہ السلام پر نازل ہوا۔ یہ علم کس نبی پر نازل ہوا، کتب میں اسکا اختلاف ہے ۔ بعض ماہرین فنِ رمل کہتے ہیں کہ یہ علم ابتداً حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوا اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کو تعلیم فرمایا۔ اس کے بعد یہ علم  حضرت دانیال علیہ السلام کو بطورِ معجزہ عطا ہوا۔

بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ علم سات انبیاء علیہ السلام پر نازل ہوا   جن میں سے
حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت شیث علیہ السلام ، حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت لقمان علیہ السلام اور حضرت دانیال علیہ السلام کے نام زیادہ تر کتب میں موجود ہیں۔

بحرحال  یہ ایک سچا علم ہے۔

بعض کتب میں علمِ رمل سے متعلق یہ ایک روایت ملتی ہے کہ

جناب حضرت  ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن آنحضرت ﷺ سے عرض کیا “کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا ہے کہ وہ بیٹھا ہوا ریت پر خط کھینچتا رہتا ہے اور لوگ اُسے جھٹلاتے ہیں”۔
آپ نے فرمایا 

“یہ علم ایک پیغمبر پر نازل ہوا تھا، پس جو شخص اس پیغمبر کے عمل کے موافق اس علم کا استعمال کرے ۔ تو موجب ثواب ہے “۔

علم الرمل کے ماہر جناب  ڈاکٹر عبد الرحیم رند (مرحوم) اپنی کتاب  رحیم الرمل میں فرماتے ہیں کہ یہ علم متبرک ہے اور منجانب رب العُلا انبیاء پر نازل ہوا اسلئے اعتقاداً سچا علم ہے۔ پس جو آدمی اس کے اصول و قواعد کے مطابق اس پر عمل کریگا صواب کے علاوہ اس کا حساب صحیح  اور سچا ثابت ہوگا۔ اور لوگوں کی بھلائی اور مشکل کشائی ہوگی، کیونکہ یہ علم ہر لحاظ سے صحیح ہے جس کو پروردگار نے اپنے خاص بندوں کی رہنمائی کے لئے نازل فرمایا۔ اس کے اسرار و رموز بہت گہرے  ہیں۔ جو آدمی اپنے مذہب پر قائم نہیں رہتا اس علم پر کبھی دسترس حاصل نہیں کر سکتا۔  ہر عالم کو اپنے مذہب کے اصولوں کی پابندی نہایت ضروری ہے۔تب جا کر آپ اس علم پر حاوی ہونگے اور عوال کو فیض پہینچا سکیں گے۔ورنہ نہیں۔

ان ماہرِ علوم حضرات کے علاوہ ڈاکٹر شاد گیلانی (مرحوم) اور دیگر نے بھی ان علوم پر بہت کام کیا اور مبتدی حضرات کے علم سیکھنے میں بہت معاونت کی۔ راقم الحروف   نےاس علم کی کتب تو کافی سال پہلے خرید رکھی تھیں لیکن روحانی تعلیمات و دنیاوی مصروفیات نے کبھی اس حد تک فراغت نہ دی کہ میں ان پر کچھ کام کر سکتا۔ چند سال قبل اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا سے یہ علم معجزاتی طور پر لیکن ایک اللہ کے ولی کی اجازت سے جب حاصل ہوا تو اس پر توجہ دی اور پھر دن رات ایک کر دیئے۔ تجربات کے ساتھ تحقیق سے بھی کام لیا اور ایسے مضامین شائع کئے جن کی مدد سے وہ حضرات جو ان علوم سے دل برداشتہ ہو کر سِرے سے علم سے ہی متنفر ہوئے بیٹھے تھے ان کے لئے نئی راہیں ہموار ہوئی۔

میں نے سالوں عالمِ روحانیت و عملیات میں رہ کر دیکھا ہے کہ یہاں باتوں کو سمجھایا نہیں جاتا، اس کی چند وجوہات بھی رہی تھیں جس کی وجہ سے علم الرمل اور علم جفر کو پوشیدہ رکھا گیا اور جہلا سے دور رکھنے کی تاکید بھی فرمائی گئی۔

 ایک وجہ یہ تھی کہ تمام علوم ِ مخفیہ میں علم الرمل اور علم الجفر کو فوقیت حاصل ہے اور یہ دو علوم مثلِ کشف ہیں۔ یہاں کشف سے مراد باطنی کشف نہیں بلکہ ظاہری کشف، اور کشف کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ اس بات کو بالکل اس ہی طرح سمجھنا چاہئے کہ جیسے معرفت کی کئی ایک اقسام ہیں ، معرفت کہ لغوی معنی ہیں “جاننا” ۔ بس جہاں ایک عالمِ دین سالوں تک علمِ دین کی ریاضت و محنت کرنے  کے بعد علم کی معرفت حاصل کرتا ہے وہیں ایک اللہ کا ولی عمر بھر عشقِ الٰہی میں محو ہو کر معرفتِ الٰہی حاصل کرتا ہے۔ بس اس ہی طرح خالقِ کائنات نے اپنے خاص بندوں پر ایسے علوم نازل فرمائے جن کو حاصل کر کے  انسان اسرار و رموز سے واقف ہو سکتا ہے اور ظاہری معرفت سے مستفید ہو سکتا ہے۔ اور ایسے ہی خاص بندوں کے ہم سب متلاشی رہے اور ان سے علم حاصل کر سکے۔

بے شک علم الرمل اور علم الجفر دونوں ہی مقدس علوم ہیں اور یہ ایسے اسرار و رموز اپنے اندر لئے ہوئے ہیں کہ میں نے جب  اس علم پر مبنی دنیا کی پہلی ویب سائٹ “الرمل” کے نام سے بنائی تو اس وقت سارے مضامین انگریزی میں تحریر کئے تھے  اور تعجب کی انتہا اس وقت ہوئی جب مسلم ممالک سے کم اور یورپ کے لوگوں نے متواتر رابطے شروع کئے،  ان کے نزدیک ان کے پاس پہلے سے موجود “جیومینسی” بہت مفید اور کارآمد ہے لیکن وہ اسلامی جیومینسی “علم الرمل” کو سچا علم تسلیم کرتے تھے، ایک یورپین نے بتایا کہ وہ جیومینسی کو سالوں سے استعمال کر رہا تھا لیکن جو مدت نکالنے کا طریقہ میں نے لکھا ، اس پر عمل کرنے کے بعد حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔ یہ وہ طریق ہیں تو ماہرینِ علم الرمل نے پہلے سے لکھ چھوڑے ہیں، کتب بھی دستیاب ہیں لیکن اتنے دقیق الفاظ میں ایک عام طالب علم کے لئے سمجھنا نا ممکن ہوتا ہے۔

ان لوگوں کے تجسس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آج بھی مسلمانوں کے علوم کو سچا سمجھتے ہیں لیکن بظاہر کھُل کر اس بات کا اقرار نہیں کرتے، ایک جرمن خاتوں نے بتایا کہ وہ کافی عرصہ تک رمل کی کتب مصر کی لائبریریوں میں تلاش کرتی رہی، اور کچھ ہاتھ آ بھی گئیں لیکن ان کا ترجمہ کرنے کے بعد بھی اس کی سمجھ میں کچھ نہ آسکا۔

اس کے بالکل بر عکس، افسوس صد افسوس کہ ہمارے یہاں ان علوم کو سیکھنے کا جزبہ اب نہیں رہا، یا تو یہ علم کتابوں سے نکل کر جہلا کے ہاتھوں میں پہنچ گیا اور انھوں نے اپنی بد نیتی میں نہ علم کے ساتھ وفا کی نہ دین کے ساتھ۔

جو صاحبِ علم آج بھی اس علم کو جانتے ہیں وہ شاذونادر ہی کسی کو سکھائیں تو سکھا دیں ورنہ نہیں۔ کیونکہ علم سیکھنے سے پہلے علم سیکھنے والے کا قلب دیکھنا ضروری ہے کہ آیا وہ قلب نفس کے ہاتھوں مجبور تو نہیں، کہیں اس میں بغض و حوس اور جاہ و مرتبہ کا لالچ تو نہیں۔ بے شک یہ اجازتوں کے علم ہیں ۔ بنا اجازتوں کہ بندہ کتاب لیکر تجربہ تو کر سکتا ہے لیکن نہ خود فیض حاصل کر سکتا ہے نہ کسی کو فیض پہنچا سکتا ہے۔

صوفیہ کرام کے مطابق یہ علوم سچے تو ہیں مگر اب اپنی اصل کھو چکے ہیں اور اب اس کے جاننے والے شاذو نادر ہی کہیں موجود ہوں۔ علوم مخفیہ در حقیقت وہی ہیں جو سینہ بہ سینہ استادوں سے اپنے شاگردوں میں منتقل ہوتے رہے ہیں۔ کیونکہ علم الرمل اور علم الجفر دونوں ہی مقدس علم ہیں اس لئے دونوں کو باوضو ہو حصار کر کے درود شریف پڑھ کر عمل میں لایا جاتا ہے۔ اور دعا کی جاتی ہے کہ غیب کو جاننے والا صرف اللہ ہے اور وہی ہمیں صحیح جواب اخذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔