علم جفر کے حصے

 

کہتے ہیں کہ آخری دور میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے اس علم کی بھرپور نشرواشاعت کی ۔

علم جفر کے دو معروف حصے ہیں 
علم الآثار
علم الاخبار

علم الآثار
علم آثار علم جفر کا وہ حصہ ہے جس میں مصائب و تکلیف کے تدارک کے لئے اور حصول حاجات کیلۓ اس حصے سے کام لیا جاتا ہے خصوصا حروف ابجد اور اس کے اعداد سے الواح و نقوش تیار کیے جاتے ہیں اور تکسیر جفر سے حب و بغض اور دیگر حاجات کو حاصل کیا جاتا ہے

علم اخبار
علم اخبار علم جفر کا نہایت ہی اعلی لطیف منضبط عظیم ترین حصہ ہے اس حصے کے ذریعے انسان عالم بیداری میں قبل از وقت سوال کا جواب حاصل کرتا ہے اس حصے میں انسان کی قوت متخلیہ ،کشف، وجداں، کرامت ،سخت محنت ریاضت کی ضرورت ہے. چند نکات ایسے ہیں جن کے ذریعے اس حصے پر عبور حاصل کیا جاسکتا ہے اس حصے میں سوال کا جواب حروف میں ملتا ہے جس زبان میں سوال ہوگا اسی زبان میں جواب ہوگا یہ حصہ خالص جفر ہے