علومِ قیاسیہ پر کیونکر اعتبار ممکن ہے؟

میں گاڑی چلا رہا ہوں سامنے ایک سائن بورڈ آیا اور اس پر نشانی ہے کہ آگے کنسٹرکشن کا کام جاری ہے اس لئے اس طرف نہ جایا جائے۔ اب یہاں قیاس کیا جائے گا کہ اس طرف گیا تو حادثہ ہو سکتا ہے، اس لئے ڈائریکشن تبدیل کرنا ہوگی۔

بس یہ تمام علوم اور قیاس ہمیں ڈائریکشن بتاتے ہیں کہ اس وقت کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہو سکتا ہے۔

ایک اور مثال سے سمجھیں

میں گھر کے باہر گیا تو آسمان پر بادل تھے، یہ نشانی ہے کہ آج بارش ہو سکتی ہے۔

یہ میرا قیاس ہے اور یہ قیاس بادل کی نشانی دیکھ کر قائم ہو گیا۔

یعنی میرے لئے اس کائنات میں پیداء ہونے سے لیکر مرنے تک  ہر شئے  ہر امر ایک کی حیثیت رکھتا ہے

اب بارش ہو یا نہ ہو، یہ میرا مسئلہ نہیں۔ لیکن میں نے بادل کی نشانی دیکھ کر جو احتیاط کرنی تھی وہ کر لی۔

علم یہ بتاتا ہے کہ “کیا ہو سکتا ہے” علم یہ نہیں بتاتا کہ “یہ ہو کر رہے گا” جب کسی بھی علم کو یہ سوچ کر دیکھا جائے کہ جیسا اس نے کہا ویسا ہو کر رہے گا تو اس کا مطلب ہم نے علم کو اللہ پر فضلیت دی اور کافر ہو گئے۔ معاذ اللہ

دنیا کا کوئی علم علم غیب نہیں، یہاں تک کہ کشف بھی علم غیب نہیں

علم غیب وہ ہے جو اللہ سے ہی منسوب ہے اور سرِ الہٰی ہے، وہ چاہے تو کسی کو دے چاہے تو نہ دے۔

دنیا کا ہر کام اچھا یا بد اللہ کی رضا کے بنا نہیں ہو سکتا۔ یہ ہی وہ قانون ہے

جس پر سزا اور جزا کا امر پوشیدہ ہے۔