علومِ مخفیہ یا علومِ روحانیت

دنیا میں دو علوم ہیں علوم مخفیہ اور علوم روحانیت

متعدد مصنفین اور عاملین کا کہنا ہے کہ علم الاعداد، علم النجوم، علم الجفر، علم الرمل اور علم الدست شناسی یعنی پامسٹری  ، علم النقوش اور علم التسخیراور دیگر اعمالِ نوری و سفلی علوم مخفیہ ہیں

سب سے پہلے اس پر بحث کر لی جائے کہ ان میں سے کس  کو علم سمجھا جائے اور کس کو مخفی کہا جائے۔

علم الحروف ، علم جفر، علم الاعداد  اور علم رمل  بس یہ ہی صحیح علوم ہیں

علم نجوم سرے سے کوئی علم نہیں، ان کے متعلق حضور کا فرمان ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں۔

یہ بات یہود تک پہنچی اور انھوں نے ہندؤں کو شامل کر کے اس ہی علم نجوم کے ساتھ دیگر علوم میں بھی ستاروں اور بروج کو شامل کر کے دنیا میں پھیلایا تا کہ مسلمان رمل اور جفر کے نام پر بھی گمراہ ہو جائیں۔

یاد رہے کہ اصل علم الاعداد ، علم جفر، اور علم الرمل کا نجوم سے کوئی تعلق نہیں

علم الاعداد ، علم الجفر، اور رمل

یہ سب کہیں نہ کہیں قرآن، انبیاء اور اصحاب سے ثابت ہیں

مان لیں کہ اب یہ علوم ویسے نہ رہے جیسے ان کے دور میں تھے مگر ان کا کچھ حصہ اب بھی موجود ہے اور جو جانتے ہیں وہ آرام سے سکھاتے نہیں۔

جبکہ ان تمام علوم کی تواریخ میں بھی نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جیسے کہ، ہم جانتے ہیں کہ حروف کی ابتدا اسماء الٰہیہ سے ہوئی۔ اس کے بعد کتب میں علم الرمل کو حضرت آدم علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے، جبکہ علم الجفر کو امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اور یہاں زمانے کا فرق ضرور نمایاں ہے۔ اس کے بعد اعداد یا ابجد کی ابتداء بقول علمائے کرام تابعین کے زمانے سے ہوئی۔

یہ بات سمجھ لینا بہتر ہے کہ ہمارے پاس کوئی مصدقہ دلیل نہیں کہ کونسا علم کب نازل ہوا اور اس پر کام کس صدی میں شروع کیا گیا۔ مگر اہلِ ایمان ہونے کے باعث ہم ہر اُس چیز کو اہمیت اور عزت دیتے ہیں جو کسی بھی نبی، صحابی یا ولی سے منسوب ہو۔

کتب سے ہٹ کر بھی میرا واسطہ اولیاء اللہ کی بارگاہوں میں حاضری دینے کا رہا ہے۔ میں نے موجودہ دور کے ہر کامل ولی سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش ضرور کی ہے اور ہر جگہ سے فیض ہی ملا۔ اور متعدد جگہوں سے اُن اللہ کے ولیوں سے یہ ہی تصدیق سُنی کہ علم الحروف، علم الجفر، علم الرمل، علم الاعداد کامل علوم ہیں۔ مگر اب اللہ جس کو دیکھنے کا علم عطا کرے۔

الفاظ پر غور کریں “اللہ جس کو دیکھنے کا علم عطا کرے” یعنی علم تو آپ حسابی نوعیت میں سیکھ جاتے ہیں، مگر اصل باریکی اس علم کے باطن کی ہے۔ جو آپ سیکھ کر دیکھ رہے ہیں وہ “ظاہر” ہے، اور ظاہر کو جانا جا رہا ہے، پہچانا جا رہا ہے۔ مگر “باطن” کو دیکھنے کے لئے اللہ کی عطا چاہیئے۔

مثال سے سمجھیں

اگر کسی جگہ 786 لکھا ہے تو یہ در حقیقت حروف  (ذ- ف- و) ہیں
اور جتنا میں ان حروف کی تاثیرات کو سمجھ پایا ہوں میری نظر میں یہ ٹیسلا 369 سے بھی بڑا یونیورسل کوڈ ہے جس کو ہم 786 کہتے یا لکھتے ہیں۔

بالکل یہ ہی بات اسطرح سمجھیں کہ

یورپ میں لوگ 1111 کو اینجلک نمبر سمجھتے ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ اس سے فرشتے اُن کو کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں۔
جبکہ یہ نمبر  (ا ی ق غ) کے ہیں۔

اور ایقغ کو ماہرِ علم الجفر و رمل و اعداد جانتے ہیں  کہ کیا ہے۔

تحقیق بتاتی ہے سب کچھ ایک نقطہ سے شروع ہوا، اور وہ نقطہ حرف ب کا ہے۔  اور ب سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا آغاز ہے۔

تاہم یہ علوم مصنفین نے کتب میں لکھ دئے مگر ان کو اتنا آسان نہ سمجھا جائے، جس طرح دینی کتب میں کفار نے تحریف کی اس ہی طرح اولیاء کرام و اکابرین اور کاملین کی کتب میں بھی تحریف نظر آتی ہے۔

ایک اصول بنا لیں کہ، جو بھی علم قرآن و سنت سے ٹکرائے اُسے وہیں چھوڑ دیں۔ انشاء اللہ آپکا یہ ادب اللہ کے نزدیک مقبول ہوگا اور عین ممکن ہے کہ آپ کو وہ نظر عطا کر دی جائے کہ پھر کسی علم کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔