عملیات و تعویذات پر کتنا یقین ہو؟

اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ عملیات و تعویذات ہوں یا دنیا کا کوئی بھی علم، چاہے، اُس پر اُتنا ہی یقین رکھنا چاہیئے جتنا دوائی پر یقین ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے دوائی سے نقصان کا احتمال بھی ہوتا ہے مگر نوری علم کے تعویذات اور عملیات  یا اوراد کی مداومت سے نقصان کا احتمال نہیں ہوتا بلکہ فائدہ کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کے اسماء یا کلام اللہ کی آیات سے بنائے جاتے ہیں۔  اس کے لئے ضروری یہ بھی ہے کہ اس علم کی چیدہ چیدہ باتیں سیکھ کر خود اپنے نام کے اعداد یا کسی اسم مبارکہ کے اعداد نکال کر مداومت کرنا سیکھنا چاہئے ۔

ایک حکایت کے مطابق ایک دن ایک ضعیفہ قطب الاقطاب حضرت بابا فرید الدین گنج شکر نور اللہ مرقدہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ” میں بیوہ ہوں میری بیٹی جوان ہے میں نے اس کی شادی کرنی ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے آپ میری مدد کریں “۔ حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ  نے فرمایا “مٹی کی ایک ڈلی لاؤ “۔ وہ عورت سمجھی آپ استنجے کے لئے مٹی طلب کر رہے ہیں ، وہ عورت چھوٹی سی ڈلی اُٹھا کر لے آئی۔ بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو ہاتھ میں لیکر سورہ اخلاص تین مرتبہ پڑھ کر مٹی پر دم کر دیا تو وہ مٹی سونے کی ڈلی ہو گئی۔ بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ  نے فرمایا “مائی اپنی بیٹی کی شادی کر لے”۔عورت نے کہا ۔ واہ ! کیا بات ہے، سونا بھی ملا اور سونا بنانے کا نسخہ بھی ملا۔عورت نے گھر جا کر مٹی کا کافی بڑا ڈیلا اپنے سامنے رکھا اور رات بھر سورۃ اخلاص پڑھ کر اس پر دم کرتی رہی صبح کو دیکھا تو وہ مٹی ہی تھی۔ حضرت بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ، بابا جی آپ نے اس مٹی کی ڈلی پر تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر دم کر دیا تھا تو وہ مٹی سونا بن گئی تھی میں ساری رات سورہ اخلاص پڑھ کر دم کرتی رہی ہوں تو مٹی سونا نہیں بنی۔ اس کی کیا وجہ ہے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :۔”اے مائی تو زبان بھی فرید کی لا“یہ حکایت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے ولی کی زبان اور تحریر میں بھی اثر پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کا لکھا با اثر اس کا بولنا با اثر اس کا کوئی فعل اس کا نہیں ہوتا وہ اللہ کا ہوتا ہے۔