عملیات و تعویزات کا غلط استعمال

عملیات و تعویزات کا سلسلہ کب شروع ہوا ، اس کی اصل سے خود عاملین بھی غافل ہیں، اور کاملین کا یہ کام ہی نہیں کہ وہ کسی چلہ کشی میں پڑھ کر ذکر اللہ کے سوا کسی اور بات میں وقت گزارتے، لیکن عملیات کی کتب بیش بہا ہیں. عملیات و تعویزات کے حصول کا اشتیاق عوام کیا خواص کو بھی ہمیشہ سے رہا ہے۔ اور اس فن میں زمانہ قدیم سے ہزارہا کتب تصنیف ہو کر شائع ہوتی رہی ہیں، مگر فی زمانہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر لوگ ان کتابوں سے مستفید ہونے کے بجائے نقصان اٹھاتے ہیں۔

۔ بعض کتب حقیقتاً بزرگوں کے روحانی کمالات کی مظہر ہیں مگر زمانہ حال کے نا اہل حضرات کماحقہ ان سے مستفیض ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
۔ بعض کتب وہ ہیں جن کے اندر صدق و کزب رطب ویابس، خیر و شر کے  جمع کرنے میں کوئی تفریق نہیں کی گئی۔
 بعض کتب کے مندرجات فی نفسہ خوب ہیں مگر اسناد صحیح نہیں ان کے فوائد پر بالکل یقین نہیں ہوتا۔
۔ بعض کتب میں قرآنی آیات اور طیب کلمات کو برے مقاصد میں استعمال کرنے کے طریقے تحریر ہیں۔
۔ جبکہ بعض کتب میں قرآنی آیات کو غیر شرعی طریقہ سے استعمال کرنے کو لکھا جیسے بسم اللہ کو الٹا پڑھنا یا لکھا یا بسم اللہ شریف کو (معاذ اللہ) کسی ناپاک چیز سے لکھنا۔
۔ بعض کتب یہود ہنود کے اعمال باطلہ کے مضامین سے اخذ کر کے مرتب کی گئی ہیں وہ اعمال کفریہ اور عقائد باطلہ اور ہندی اصطلاحات کی وجہ سے اجنبی اور غیر مفید ہیں اور غیر مشروع ہیں۔
۔ بعض کتب میں اعمال و نقوش کی ناجائز صورتیں بیان کی گئی ہیں۔
۔ بعض کتب تو بچوں کے کھلونوں کی طرح ہیں جن کو معقول آدمی اپنی کتابوں کی الماری میں رکھنا بھی پسند نہیں کرے گا۔

ان تمام جملہ برائیوں اور خامیوں کی وجہ سے اہل علم اور خاص کر اس سائنسی دور کا طالب علم ان عملیات ، وظائف اور تعویذات کی مروجہ کتابوں سے بد ظن اور سخت متنفر نظر آتا ہے۔ اس نفرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ زمانہ میں شائع ہونے والی کتابوں میں اکثر عملیات و تعویذات غیر مجرب اور سماعی ہیں، لوگ جب ان کا تجربہ کرتے ہیں اور کتابی دعوٰی کے مطابق اس کو نہیں پاتے تو وہ لوگ سِرے سے عملیات اور تعویزات کی افادیت کا انکار کر دیتے ہیں اور ان سے بد ظن ہو جاتے ہیں۔ بعض تو گستاخ اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ تمام عاملین اور عملیات کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک عجیب حقیقت کا سامنا اُس وقت بھی ہوتا ہے جب عملیات کو تصوف سے منسوب کر کے متعدد اعمال اولیاء اللہ اور بزرگانِ دین سے منسوب کر دیئے جاتے ہیں جن کی اصل کم ہی دیکھنے میں آتی ہے، عقیدت مند حضرات ان اعمال کو عملیات کا حصہ سمجھ کر بنا کسی اجازت کے مداومت میں لے آتے ہیں اور ایسے کئی حضرات سخت ذہنی، جسمانی اور روحانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، احقر نے کئی ایسے خواتین و حضرات کو عملیات میں پاگل تک ہوتے دیکھا ہے۔مولانا اول شاہ رضوی سنبھلی اپنی تصنیف “معلم عاملین” میں تحریر فرماتے ہیں کہ ” بعض نکمے بے عمل بھوک کے مارے ، کسی سے عملیات کے گن کو سیکھے بغیراور اسکی ابجد کو جانے بنا، بلکہ دنیا کو لوٹنے کے لئے عملیات تعویذات کی کوئی کتاب خرید کر دوکان کھول لیتے ہیں۔ اور اس میں سے تعویذ نقل کر کے دینے لگتے ہیں۔ اور دم کرنے کے لئے ہونٹ ہلا کر چھو چھو کر دیتے ہیں۔ یہ مکر و فریب اور دھوکہ بازی ہے۔ عامل بننے کے لئے ضروری ہے کہ استادان فن کی خدمت کی جائے، اس علم کی تعلیم حاصل کرے ، تعویذات کی زکوٰۃ ادا کرے، اس کی باقاعدہ اجازت حاصل کرے۔ ایسے ہی تعویذات کو نقل کر کے دینا ، دھوکہ اور اخلاقی جرم ہے۔ اس کا وبال ضرور اٹھانا پڑے گا، دھوکہ فریب کی ممانعت قرآن و سنت میں بکثرت وارد ہے۔

اوپر بیان کردہ تمام باتوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہم کس قدر لا علمی اور جہالت کا شکار رہے ہیں۔ ہم نے ہر کسی کو علم والا سمجھ کر یقین کر لیا تھا اور جب کچھ حاصل وصول نہ ہوا، تو بجائے اس کے کہ ہم خود کو کرتے، ہم علم کو ہی برا بھلا کہنے لگے۔ علم کا ھاصل کرنا آپکی ذہنی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے، ہم بہتر سوچنا اور سمجھنا سیکھتے ہیں۔ اور یہ ہی وجہ ہے کہ جو حضرات استادوں سے سیکھ کر، اجازتیں حاصل کر کے، کسی علم کو بروئے کار لاتے رہے وہ اس میں کامیاب رہے۔

اللہ ہم سب کے ادراک کھولے.

آمین یا رب العالمین