غیر شرعی الفاظ کے تعویذ

ہر چند کہ ہمارا کام روحانی نوعیت کا ہے اور اس بلاگ کو ایک “روحانی بلاگ” کی حیثیت سالوں سے حاصل ہے۔ مگر اس کے باوجود ایسے مضامین صرف اور صرف اصلاح کے لئے شائع کئے جا رہے ہیں جسکا مقصد عوام الناس میں اس حد تک آگہی پھیلانا مقصود ہے کہ جانے انجانے میں روحانی علاج کے نام پر ہونے والے فراڈ اور کفر سے بچ سکیں۔ کیونکہ ہم سے بھی ایسے سوالات طالب علم و سائلین آئے دن پوچھتے ہیں اس لئے ہم نے ریسرچ ورک کر کے ان مضامین کو شائع کیا ہے۔  یہ تمام مضامین ہماری ہی اجازت کے ساتھ دوسری جگہوں پربھی اصلاح کے لئے شائع کئے گئے ہیں اور اب  بھی قارئین ان کو اصلاح کے لئے ہر جگہ شئیر کر سکتے ہیں۔

جب بات غیر شرعی تعویزات کی آتی ہے۔ تو دو باتوں کو سمجھ لینا کافی ہوتا ہے۔

ان کی دو صورتیں ہیں ۔ اول ۔ جیسے قرآن پاک میں حروف مقطعات ہیں یا احادیث و بزرگانِ دین سے مروی ہیں ان کے تعویذ بنانا جائز ہے۔ دوئم یہ کہ جو دوسری زبانوں کے ہیں جب تک ان کے معنی کا صحیح علم نہ ہو ان سے تعویذ بنانا جائز نہیں  نہ ان کے اعداد نہ الفاظ سے ان کے معنی شرکی کفری ہونے کا احتمال ہے۔اس ہی لئے جن الفاظ کے معنی خلاف شرع ہوں ان کا ورد کرنا یا تعویذ بنا کر دینا جائز نہیں ہے۔

حضور سرکارِ دو عالم کے فرمانِ عالیشان کے مطابق :۔حضرتِ عوف ابن مالک اشجعی روایت کرتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے ہم نے رسول اللہ سے اس بارے میں عرض کیا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا “مجھے ان افسوں منتروں کو سناؤ اگر ان میں شرک و کفر نہیں ہے تو جائز ہیں ورنہ حرام و کفر ہونگے”۔ (مسلم)حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے۔ آپ نے فرمایا:۔ “افسوں-ٹونے-تعویز وغیرہ جن میں شر کی کلمات ہوں ان کا عمل کرنا شرک ہے”۔ (مشکوٰۃ)