فائدہ اور نقصان

عملیات کی دعا اور مناجات سے خاصی مناسبت ہے ۔ آیات کی تلاوت اسماء الٰہی کا ورد یا ان کو لکھنے یا ان کے نقش تحریر کرنے کا مقصد ان کی برکتوں اور فیض سے مستفید ہونا ہے جیسے دعائے مناجات میں اس کے فیض سے استفادہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “ما خلقت ھذا باطل” ہم نے زمین اور آسمان میں کوئی چیز بے کار نہیں پیدا کی ہے۔اس سے یہ بات واضح ہے کہ ہر چیز میں فائدہ اور نقصان کو مضمر کیا ہے۔ مگر اس کا فائدہ یا نقصان دینا اللہ کی مرضی کے مطابق ہے۔ اللہ جس چیز سے جو کام لینا چاہے وہ چیز ویسے ہی کام کرتی ہے۔ زہر و تریاق کا کام اللہ کی مرضی اور مشیت کے مطابق ہوتا ہے۔  زہر کا کام قتل کرنا اور تریاق کا کام شفا دینا ہے۔ مگر یہ خاصیت اُسکی ذاتی نہیں ہے ، رب کی مرضی پر منحصر ہے کہ زہر سے موت واقع ہو یا شفا مل جائے اور تریاق سے شفا ملے یا موت واقع ہو جائے۔ یہ ایک صحیح العقیدہ مسلمان کا عقیدہ ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں اس کے خواص رکھے ہیں۔ اور اکثر وہی ظہور پزیر ہوتے ہیں۔اس کے مخالف شاذ و نادر ہی ہوتا ہے اور اگر ہو بھی تو اس کو اللہ کی مصلحت سمجھنا چاہئے۔بالکل ایسے ہی سیارے ، منازل ، دن رات ، گھڑی ، پل، میں اثرات رکھے ہیں کہ یہ ساعت اجابت دعاء کی قبولیت کی ہے۔ اس وقت سجدہ جائز ہے اس وقت سجدہ کرنا نا جائز ہے قبول نہیں ہوگا۔علم ہیت کے عالموں نے جو اوقات کے سعد و نحس کا نقشہ تیار کیا ہے آپ اس کو حتمی نہیں کہہ سکتے اس کے مطابق بھی ہو سکتا ہے اور اس کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ فاعل حقیقی صرف  اور صرف ذات باری تعالیٰ ہے۔ “ان اللہ یفعل مایرید” اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ نہ کوئی اس کا مشیر ہے نہ ساتھی شریک ہے۔ وہ مختار کل ہے۔ الحمد اللہ ! یہ ہی ہمارا عقیدہ ہے۔مگر کچھ خود ساختہ عامل سیاروں کے سعد و نحس اثرات کا نام لیکر ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے کسی عورت کی اولاد زندہ نہ رہتی ہو تو یہ عامل حضرات اس کو کہتے ہیں کہ تجھ پر فلاں سیارے کی نحوست کا اثر ہے اور تیرا گھر نحوست کا مرکز بن گیا ہے یا تجھ پر بھوت یا چڑیل کا سایہ ہے یا جن نے تجھ کو پکڑا ہوا ہے۔ ان کی نحوست کی وجہ سے تیری اولاد زندہ نہیں رہتی ۔کہتے ہیں زمانہ قدیم کے لوگ علم ِ نجوم کے بہترین ماہر تھے زمانہ قدیم کی تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے اور مختلف  یادگاریں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ وہ لوگ سیاروں کی قوت اور ان کے اثرات سے بخوبی واقف تھے  ، مگر اُن کے پاس ہدایت نہیں تھی کہ وہ ان کو مخلوق سمجھتے اور استفادہ  کرتے ۔ اس کے بر عکس انہوں نے ان سیاروں کو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں شامل کر لیا۔ اور ان کی پوجا کرنے لگے۔ اب بھی کچھ اقوام چاند ۔ سورج اور ستاروں کی پرستش کرتی ہیں۔ اور ثبوت میں بیان کرتے ہیں کہ چاند کا سمندر  سے خاص تعلق ہے سمندر میں مدو جزر طغیانی چاند کی کمی بیشی سے ہوتی ہے چاند کی چاندنی سے غلہ اور نباتات میں حیات پیدا ہوتی ہے۔ چاند کو عملیات کے مؤثر ہونے میں دخیل مانتے ہیں اور اوراد و وظائف ، اعمال و اشغال  اور تعویذات چاند کے عروج و زوال کے حساب سے کرتے ہیں۔ بلکہ نادان ایسے ہیں کہ ہر سیارے کی تاثیر جدا جدا تسلیم کرتے ہیں۔ اور دنیا کے ہر واقع اور حادثہ کو نجوم کی تاثیرات کا نتیجہ مانتے ہیں۔ (استغفر اللہ) یہ عقیدہ خلاف شرع ہے ان کے جزوی اثرات تو سب مانتے ہیں اس سے کون انکار کر سکتا ہے ، رب نے ان کو بیکار پیدا نہیں کیا ان کے اندر فوائد اور نقصان رکھے ہیں جیسے دوسری اشیاء میں موجود ہیں یہ ان کے ذاتی نہیں رب کے عطا کر دہ ہیں ۔