نام اور تاریخ پیدائش کے اعداد

یہ اعداد جن سے واقعات و حادثات اور زاتی مشاغل جیسے کاروبار  ، رہائشی حالات وغیرہ وابستہ ہیں ۔ ان کا علم ہونا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ میں ہرگز موضوع کو پیچیدہ نہیں کرنا چاہتااس لیئے ہر بات کو سہل طریقے سے بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ سب سے پہلے اس علم کے اہم اصولوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یعنی اعداد کا حروف کے ساتھ باہمی تعلق معلوم ہونا چاہیئے۔ ہمیں معلوم ہے کہ مختلف مصنفین نے حروف تہجی کی مختلف قسمیں دی ہیں ۔ لیکن جو نہایت معتبر  حروف تہجی ہماری زبان میں ہے اس کو ابجد قمری کہا جاتا ہے۔ یہ ابجد قمری نام کے اعداد نکالنے کے کام آتی ہے ۔

 

اپنے نام کے اعداد معلوم کریں

یاد رہے کہ پیدائشی نام ، موجودہ نام ، تخلص ، تاریخ پیدائش وغیرہ کے  عدد الگ الگ طرح سے ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہر نمبر کی اپنی الگ اہمیت ہے ۔ جس کے لیئے علم الاعداد سے واقفیت ہونا ضروری ہے۔

اس سے قبل جو ابجد پیش کی گئی تھی اس کے مطابق ہم اپنے نام کے اعداد با آسانی حاصل کر سکتے ہیں لیکن یاد رہے عدد نو سے آگے نہیں بڑھنا چاہیئے ۔ ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔

فرض کیا تمھارا نام احمد ہے۔

گزشتہ ابجد میں دیکھا تو الف کا عدد 1 ہے
ح کا عدد 8 ہے
م کا عدد 4  ہے

اور د کا عدد بھی 4 ہے

اب ان کو جمع کرو !

1+8+4+4

حاصل جواب 17 آیا

لیکن ہمیں تو 9 کے عدد سے آگے جانا ہی نہیں اسلیئے ہم 1 اور 7 کو بھی جمع کریں گے۔

1+7

حاصل 8 ہوا۔

بس یہ 8 احمد کا عدد مفرد ہے ۔ اور یہ 8 نمبر والے افراد کا کردار ظاہر کرے گا۔

تاریخ پیدائش کا عدد معلوم کرو

علم الاعداد ایک وسیع علم ہے۔ ہر کسی کی یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے مقصد کا عدد معلوم کرے، اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جانے اور اس کے مطابق زندگی کو کامیابی کے راستوں پر گامزن کرے۔ جن کو اس علم سے واقفیت ہے وہ اس علم کے ایسے بادشاہ بنے بیٹھے ہیں جیسے اسے ساتھ ہی لیکر پیداء ہوئے تھے ۔ میں نے چند ہی کچھ ایسے ماہرین کو دیکھا جنھوں نے علم حاصل بھی کیا اور اس کو ضرورت مند کے لیئے عام بھی کیا ۔ ایسے حضرات میں جناب محترم کاش البرنی مرحوم کی کتب سالہ سال میرے مطالعہ کا حصہ رہی ہیں، میں نے اب تک جتنے تجربات علم الاعداد میں ان کتب سے کئے ہیں 75 فیصدی صحیح ثابت ہوئے، لیکن اُن کتب میں کافی کچھ ایسا ہے جو لفظوں میں چھُا لیا گیا تھا، اس لئے جو شخص صدقِ دل سے اس علم کی مداومت میں رہتا ہے وہ اُن رازوں سے واقف ہو جاتا ہے۔

 نیز اس بات کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر علم اور اس علم سے منسوب اشخاص کا طریقہ عمل تجربات کی بنیاد پر مختلف بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل ہم نام کے اعداد معلوم کرنے کا طریقہ بیان کر چکے ہیں۔ آج ہم تاریخِ پیدائش کے اعداد معلوم کریں گے۔ اس کو  غور سے سمجھیں ۔

فرض کرو تمھاری تاریخ پیدائش 1988 – 11 – 25 ہے

اب اسکا مفرد عدد معلوم کرنا ہے۔ جو کہ اسطرح کیا جائے گا۔

8+8+9+1+1+1+5+2

ان تمام اعداد کو آپس میں جمع کیا تو حاصل 35 آیا

اب 5 اور 3 کو بھی آپس میں جمع کیا تو جواب 8 آیا۔

بس یہ ہی تمھاری تاریخ پیدائش کا مفرد عدد ہے۔

اکثر لوگوں کا سوال ہوتا ہے کہ ہم اپنے نام کے عدد پر یقین کریں یا تاریخ پیدائش والے عدد پر۔ اس کا جواب جو کتب میں بتایا گیا وہ یہ ہے کہ تاریخ پیدائش کے عدد کو ہی اہمیت دی جائے ۔ لیکن ایسی کسی صورت میں جہاں تاریخ پیدائش یاد نہ ہو تو نام کا عدد لیکر اس سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نام کسی کا بھی تبدیل ہو سکتا ہے لیکن تاریخ پیدائش کبھی بدلی نہیں جا سکتی اس لیئے اسکے عدد کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔

میں اس بات سے متفق نہیں، میرا طریقہ کار یکسر تمام ماہرین سے مختلف ہے جس کو یہاں بیان کرنا ہرگز ضروری نہیں۔
اب اس میں بھی متعدد پیچیدگیاں ہیں جنکا ایک عام انسان کو علم نہیں ہوتا۔ جیسے کسی کا نام احمد مشتاق ہے۔ مکمل نام کے اعداد اپنی جگہ لیکن بعض اوقات زیادہ پکارا جانے والا نام ہی اپنے اعداد کا اثر دکھاتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ ہر عدد اور ہر حرف کی اپنی ایک وائبریشن ہے جو کسی نہ کسی فریکیونسی سے منسلک ہو کر ہی نقصان یا فائدہ کا باعث بنتی ہے۔ بعض اوقات ہم علم کی کمی کی وجہ سے فائدہ نہیں نقصان اٹھا بیٹھتے ہیں