نظرِ بد اور یورپ

قارئینِ کرام:
ہم نے اپنے پچھلے مضمون “نظر بد کی اقسام” میں کیونکہ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت پیش کی تھی، اس لئے بہتر نہیں جانا کہ کوئی سائنسی یا سے منسلک بات وہاں کی جاتی۔ تاہم یہاں یہ بات موجودہ دور میں سمجھنے کے لئے اشد ضروری ہے کہ آنکھوں سے نکلنے والی شعاعوں کو مختلف دماغی اور ارتکاز کی مشقوں سے اپنی مرضی سے اتنا طاقتور بنایا جا سکتا ہے کہ اپنے دل کی بات، یا خیال کو کسی پر مسلط کیا جا سکے۔ یورپ اور ہند میں اس پر بڑا کام ہوا ہے۔ اور یا سے لیکر سب اس ہی تعلیم کی کڑیاں رہی ہے۔ جب کہ یوگیوں کے میں بھی ایسے کچھ طریقے ملتے تھے جس سے سوچ اور ذہنی طاقت کو اس حد تک بڑھایا جاتا تھا کہ صرف ارتکاز کی قوت سے وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکتے تھے۔ایک ریسرچ کے مطابق جو ایک خود کار شیطانی مذہب کی ماننے والی ہوتی ہیں اُن ابتدائی مشقوں میں پہلی مشق ہی ارتکاز اور نظر بد یعنی کرنے کی ہوتی ہے۔ یہ وجہ رہی کہ اُن کو عرفِ عام میں کہا جاتا ہے۔ جبکہ اُن کے باطل مذہب اور شیطانی حربوں میں طاغوتی قوتوں یعنی سے مدد لینا بھی شامل ہے۔اب یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ دینِ اسلام میں غیر شرعی الفاظ یعنی یا کی کوئی شرعی حیثیت نہیں بلکہ اس کو حرام قرار دیا گیا۔ اس ہی طرح کسی بھی طرز کے ایسے تعویذات خواہ وہ کسی بھی آیت یا اسم کے اعداد یعنی میں ہوں، استعمال ہرگز نہ کرنے چاہئے۔ کیونکہ ایسے تمام غیر شرعی مواد کا استعمال بھی کا حصہ ہیں۔اور افسوس کہ اب یہ فاسد تعلیمات مسلمانوں میں عام ہو رہی ہیں۔ روحانی علاج اور پرسکون زندگی کے خواب دکھا کر ارتکاز کی وہ مشقیں عوام میں روشناس کروائی جا رہی ہیں جنکا تعلق صرف اور صرف سے ہے۔