کونسا علم سیکھنا چاہئے؟

یہ وہ سوال ہے کہ انسان کو کسی استاد سے قبل خود سے پوچھنا چاہیئے۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے رجحان کو دیکھنا چاہیئے، متعدد خواتین و حضرات روحانیت کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں مگر روحانیت کی اصل سے واقف نہیں، اس ہی طرح لوگوں نے اعمال و عملیات کو جادو سمجھ لیا، جو کہ ہر گز ایسا نہیں، کچھ حضرات ہاتھ دیکھنا، علمِ نجوم، علمِ الجفر، علم الرمل کی جانب جانا چاہتے ہیں، یا کچھ ایسے افراد بھی ہمیں لکھتے ہیں جنکا کبھی کوئی واسطہ روحانیت سے نہیں تھا مگر گردشِ حالات سے تنگ آکر اس جانب راغب ہو گئے ہیں۔
 
اوپر لکھی گئی تمام باتوں سے مختلف موضوع ہے “کسی سلسلہ طریقت میں بیعت ہونا” ، کیونکہ “بیعت کا اصل مفہوم عوام الناس آج تک نہ سمجھ سکے، ہماری ریسرچ کے مطابق زیادہ تر افراد ان وجوہات کی بنا پر بیعت ہوتے ہیں یا کسی پیر کی تلاش میں نکلتے ہیں ، وہ وجوہات یہ ہیں:
گھریلو نا چاقیاں
کاروباری مسائل
رزق میں تنگی
زندگی میں کامیابی
جادو، بندش اور آسیب کا علاج
من پسند جگہ شادی
وغیرہ ۔ ۔ ۔
 
قارئینِ کرام متوجہ ہوں کہ کسی بھی روحانی سلسلہ طریقت میں جب تک بیعت نہ لیں جب تک آپ کو اپنے ارادے کا علم نہ ہو۔ تمام تر سلاسلِ طریقت کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے “اللہ کی راہ پر سالک کو لیکر چلنا اور اللہ کے احکامات کے ساتھ شریعتِ محمدی ﷺ کا پابند بنانا“۔ نہ کہ لوگوں کے دنیاوی مسائل کا حل دینا، یہ الگ بات ہوگی کہ راہِ خدا پر چلنے والے کی مشکلات اللہ ختم فرما دے، مگر نیت صادق ہو تب ہی منزل بھی آسان ہو گی۔
مگر ہوتا یوں ہے کہ مصائب و آلام سے بچنے کے لئے بیعت لے لی جاتی ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ جادو کے ہر وارسے پیر صاحب بچاتے رہیں گے ، چاہے سالک جو چاہے نجی زندگی میں گناہ کرتا رہے بس پیر سے بیعت لے لی ہے تو بچا رہے گا۔ ۔ ۔ ایسا نہیں ہوتا۔
 
ایک کامل پیر کا یہ کام نہیں کہ وہ ہمارے گھریلو اور دنیاوی مسائل حل کرے، اُس کا کام عوام کو دین کی جانب راغب کروانا ہے۔
 
دیگر مسائل کے لئے قرآن کی تلاوت کیا کم ہے؟ کیا احادیث مبارکہ میں شامل اوراد کرنے میں ہمیں کوئی قباحت ہے؟ ہم نے ایک صاحب کو “درود ابراھیمی” کی مداومت کا کہا، کچھ ماہ بعد کہنے لگے کچھ اور بتا دیں، اس سے تو کچھ ہوتا ہی نہیں۔ ۔ ۔ افسوس صد افسوس کے یہ ہمارے ایمان کی حالت ہے۔ جب ایمان ہی بندے کا اتنا کمزور ہو تو اس پر مصائب و آلام کیوں نہ آئیں؟
 
اس لئے بیعت اور روحانی سلاسل کو ہرگز ہرگز دنیاوی مسائل کے لئے اختیار نہ کریں۔  اور بیعت کے موضوع پر انشاء اللہ مکمل مضامین “تصوف” کے سیکشن میں لکھے جائیں گے۔
 
اب ایک لفظ ہے “روحانی” اور دوسرا لفظ ہے “مخفی” ۔ ان دونوں الفاظ کا غلط مطلب ہر جگہ دیکھنے میں آتا ہے۔
 
جیسے کسی بھی وظیفہ کو “روحانی وظیفہ” یا روحانی عمل” یا کسی بھی اعمال کے مجموعے کو “روحانی عملیات و اسرار” کہہ کر شائع کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ غلط فہمی رہتی ہے کہ شائید یہ صوفیاء کرام سے منسوب کوئی ایسے خاص وظیفے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے اور مقام پا لیا، ہم بھی کریں گے تو ویسا ہی ہوگا۔۔۔ ہر گز نہیں۔
 
لفظ “روحانی” کا مطلب ہے روح سے متعلق بات، یا کوئی ایسا عمل جس سے روح کو قوت حاصل ہو،یا روح صاف ہو،  مگر وہ ساری باتیں بندہ استاد و مرشد کی اجازت سے سیکھتا ہے ایسی باتیں نہ تو کتابوں میں عیاں ہوتی ہیں اور اگر ہو بھی جائیں تو خواص کے لئے ہوتی ہیں، ان کو عمل سے لانے سے قبل اجازت درکار ہے، اجازت کے بغیر کیا جائے تو نقصان کا اندیشہ ہے۔ یہاں لفظ روحانی روح کی اس حالت کو بھی کہا جائے گا جس میں روح عالم میں سیر کرتی ہے یا کچھ خاص اشغال و مراقبات سے قوت کشف وغیرہ حاصل کرتی ہے۔ جبکہ اہلِ تصوف کے نزدیک کشف سالک کے لئے ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے روحانی مقامات حاصل کرنے میں، ہم نے ایسے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ ذکر کرنے بیٹھے تو گھنٹوں اس ہی میں مگن ہیں، جبکہ ہم عام لوگ کچھ وقت بیٹھ جائیں تو کمر ہی جواب دے جاتی ہے۔ 
لفظ “مخفی” کا معنیٰ چھپے ہوئے کے ہیں، راز کے ہیں، اور جو پہلے سے راز ہو وہ کتابوں میں کیونکر چھپے گا؟ اور جو احاطہ تحریر میں آگیا وہ مخفی کہاں رہا؟ اس ہی طرح تمام ایسے حسابی علوم، جیسے علم الجفر، علم الرمل ، علم الاعداد کو روحانی اور مخفی لکھا جاتا ہے، جبکہ یہ غلط ہے۔
یہ تمام علوم سائنسزکی حیثیت رکھتے ہیں، اعداد کی سائنس کو ہم علم الاعداد کہ دیتے ہیں، حروف کی سائنسز کو علم الجفر، اور لکیروں اور نقاط کی سائنس سے کسی بات کا اندازہ لگانے کو علم الرمل۔
 
دنیا کا ہر علم، یہاں تک کہ ریاضی، طب، علم کیمیا یہ سب اپنے اپنے اصولوں پر قائم ہیں، ان کو سیکھ کر لوگوں نے فوائد حاصل کئے ہیں، کسی بھی علم کا استعمال، اس کو استعمال کرنے والے پر منحصر ہے۔ جو لوگ وجدان کی مخفی قوت سے مالا مال ہیں وہ ان علوم کو بروئے کار لا کر وہ وہ جواب برآمد کر لیتے ہیں کہ انسان ششدر رہ جائے۔
 
اس ہی لئے پہلے اہلِ یورپ اپنی روحانی قوتوں کو بڑھا کر وجدان کی قوت حاصل کرتے ہیں پھر کسی موضوع پر کام کرتے ہیں۔
اہلِ تصوف یہ کام خاص اذکار، اشغال و مراقبات اور عمل تنفس سے کر لیتے تھے، اور اہلِ یورپ نے صوفیاء کے ہی تجربات سے فائدہ اٹھایا۔ 
 
یوگا، پوری دنیا میں رائج ہے، مگر اصل یوگا جس کو “راج یوگا” کے نام سے جانا جاتا ہے وہ صرف عمل تنفس اور مراقبہ پر مبنی ہے۔ جس سے وہ Third Eye یعنی تیسری آنکھ کھول لیتے ہیں، اور ان کی intuition power اور esp کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
لیکن
یہ ہی تمام قوتیں صرف کلمہ طیبہ کے ایک مخصوص ورد سے خاص تعداد میں پڑھنے سے بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔
 
لحاظہ کسی ایسے علم جیسے کہ علم الجفر، علم الاعداد ، علم الرمل ، اور دیگر کے حصول سے قبل اپنے اندر وجدانی قوت پیداء کر لی جائے تو ان علوم میں آسانیوں کے دروازے کھُل جاتے ہیں اور 75 فیصد نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
 
سب سے پہلے یہ سوچیئے کہ آپ کیوں سیکھنا چاہتے ہیں، اگر شوق ہے تو بات الگ ہے۔ اگر پیدائش ہی اس شوق پر ہوئی ہے تو سیکھے بنا چارہ ہی نہیں،کیونکہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو شخص by birth gifted ہو، وہ ان کو سیکھے بنا اور بروئے کار لائے بنا دنیا کا کوئی دوسرا کام نہیں کر سکتا، کر بھی لے تو کامیاب نہیں ہوتا۔
 
 مگر کوئی ضرورت ہے اور آپ ضرورت مند ہیں تو نہ سیکھیں ، سب سے پہلے اُس ضرورت کی تکمیل کریں، اصلاح لیں، یا ہو سکتا ہے وہ ضرورت کسی ایک خاص اسم کا ورد کرنے سے ہی پوری ہو جائے۔
 
ہمارے نزدیک ہر شئے اللہ کی مخلوق ہے۔ جیسے ہمارا جسم ایک یا دو روح کا نہیں بلکہ روحوں کا مرکز ہے، اس ہی طرح یہ حروف، اعداد، نقاط، لکیریں، لفظ، جملے، بولتے بھی ہیں، سنتے بھی ہیں سمجھتے بھی ہیں اور اپنے خالق کے ذکر میں مشغول بھی رہتے ہیں۔ مزید سمجھنے کے لئے قرآن ِ کریم کی اس آیت کا مطالعہ فرمائیں۔
 
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

The seven heavens and the earth and whatever is in them exalt Him. And there is not a thing except that it exalts [ Allah ] by His praise, but you do not understand their [way of] exalting. Indeed, He is ever Forbearing and Forgiving.

ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وه بڑا بردبار اور بخشنے واﻻ ہے

 
 

Surat Al-‘Isrā’  – سورة الإسراء

 
جزاک اللہ خیراً